سندھ طاس معاہدہ: عالمی عدالت کے فیصلہ سے پاکستانی مؤقف کو تقویت ملی، وزیراعظم
وزیراعظم کا خیرمقدم
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر مستقل ثالثی عدالت کی طرف سے دیے گئے ضمنی ایوارڈ کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے پاکستانی مؤقف کو تقویت ملی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی حملے کے بعد ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہئے؛ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر
عدالتی فیصلے کی اہمیت
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے سے پاکستانی بیانیے کو تقویت ملی ہے، عدالتی فیصلے کے مطابق بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
آبی وسائل کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ آبی وسائل پر کام کر رہے ہیں، پانی ہماری لائف لائن ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل منصور اعوان کی کاوشوں کی تعریف بھی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرا پارٹی الیکشن کیس، پی ٹی آئی نے جواب جمع کروانے کیلئے کمیشن سے وقت مانگ لیا
عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ
واضح رہے کہ عالمی ثالثی عدالت نے پاکستانی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کی عارضی معطلی کے بھارتی اعلان کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت جاری ثالثی کو یکطرفہ طور پر نہیں روک سکتا۔ یہ فیصلہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے مغربی دریاؤں سندھ، جہلم، چناب پر پن بجلی منصوبوں کے خلاف دائر مقدمے میں جاری کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کیخلاف نااہلی کا ریفرنس دائر کر دیا
معاہدے کی شقیں
فیصلے کے متن کے مطابق سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ثالثی عدالت کا کردار نمایاں ہے اور معاہدے کی معطلی کے بھارتی اقدام سے عدالت کی فیصلہ سازی کی حیثیت بالکل متاثر نہیں ہوتی۔ کسی ایک فریق کے معاہدہ معطلی کے یکطرفہ فیصلے سے عدالت اپنی کاروائی نہیں روکے گی اور سندھ طاس معاہدے پر فیصلہ سازی جاری رکھے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بہت سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ اخلاص و محبت کے رشتے کا گلا گھونٹ دیا جائے، اْسے خط کا جواب نہ دیا جائے، ہم اندھیرے میں ہی رہیں
ثالثی کے کردار کی حفاظت
متن میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت نے سندھ طاس معاہدے کا بغور جائزہ لیا، سندھ طاس معاہدے میں کہیں بھی یکطرفہ طور پر اسے معطل کرنے کی شق شامل نہیں۔ سندھ طاس معاہدے کا اطلاق پاکستان اور بھارت کے اسے معطل کرنے کے متفقہ فیصلے کے بغیر جاری رہے گا۔ کوئی بھی فریق یعنی بھارت یکطرفہ طور پر کسی بھی مسئلے کے حل کیلئے ثالثی کاروائی کو روک نہیں سکتا۔
عدالت کی فیصلہ سازی کی ذمہ داری
ثالثی عدالت کے مطابق مسائل کے حل میں ثالث کے کردار کو روکنے کی کوشش سندھ طاس معاہدے میں موجود ثالث کے ذریعے تنازعات کے حل کی لازم شق کی خلاف ورزی ہے۔ ان تمام حقائق کی روشنی میں عدالت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ طور پر ثالثی کاروائی روکنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے تنازعات کے حل کیلئے ثالثی عدالت اپنا ذمہ دارانہ، منصفانہ اور مؤثر کردار ادا کرتی رہے گی۔








