فنڈز کا آڈٹ کیا جائے” عظمیٰ بخاری کی خیبرپختونخوا میں 12 سالہ طویل حکمرانی پر کڑی تنقید
وزیر اطلاعات پنجاب کا افسوسناک واقعے پر ردعمل
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے علاقے سوات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا، جس میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد دریائے سوات میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کا قذافی سٹیڈیم اپ گریڈیشن پراجیکٹ کے تعمیراتی کاموں کا جائزہ
ریسکیو کی ناکامی
انہوں نے کہا کہ اگر یہ واقعہ پنجاب میں پیش آتا تو یہاں کی حکومت فوری طور پر حرکت میں آتی، لیکن سوات میں متاثرہ خاندان کے افراد دو گھنٹے تک مدد کے منتظر رہے۔ ریسکیو کے لیے بار بار کالز کی گئیں مگر کوئی نہ پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے مبینہ قاتل کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی
ہزاروں روپے کے منصوبے اور حقیقت
وزیر اطلاعات نے خیبرپختونخوا میں 12 سالہ طویل حکمرانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کے پی کے میں اربوں روپے کے منصوبوں کا دعویٰ کیا گیا، ایئر ایمبولینس کے اجراء کا اعلان 26 مئی 2024 کو ہوا، لیکن عملی میدان میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت کا سفارتی ذرائع سے جیلوں میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ
حفاظتی نظام کی عدم دستیابی
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ دریائے سوات کے کنارے ایک بھی مؤثر ریسکیو یا کنٹرول یونٹ نہیں بنایا گیا۔ نہ کشتیاں دی گئیں، نہ عملہ موجود ہے۔ سیاح بار بار حادثات کا شکار ہو رہے ہیں، مگر کوئی سبق حاصل نہیں کیا جا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: افسوس پیسے کی چمک، رشتوں کی قدر اور احساس بھی بھلا دیتی، باہر جانے والوں میں اکثر یت غریب گھرانوں سے تھی، وہاں جاکر جم کر محنت کرتے۔
وزیر اعلیٰ کا عدم موجودگی
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اگر کہیں کتا کاٹنے کا واقعہ بھی ہوتا ہے تو وزیر اعلیٰ فوری نوٹس لیتی ہیں، جبکہ سوات میں اتنا بڑا سانحہ پیش آیا تو خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ اڈیالہ جیل کی ملازمت میں مصروف تھے۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے اندر اختلافات سے متعلق شوکت یوسفزئی کا بیان
تحقیقات اور آڈٹ کا مطالبہ
عظمیٰ بخاری نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے فنڈز کا آڈٹ کیا جائے، دریائے سوات کے اردگرد بنائی گئی تجاوزات اور ہوٹلوں کی تعمیرات کی مکمل تحقیقات کی جائیں، اور ایئر ایمبولینس منصوبے اور ریسکیو سسٹم کی ناکامی کا سخت نوٹس لیا جائے۔
سانحہ سوات پر اظہار یکجہتی
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ لوگ سیر و تفریح کے لیے جاتے ہیں، مرنے کے لیے نہیں۔ یہ حادثہ روکا جا سکتا تھا، یہ محض ایک آفت نہیں بلکہ ناقص حکمرانی کا نتیجہ ہے۔ حکومت پنجاب سانحہ سوات میں جاں بحق ہونے والے خاندان سے مکمل اظہار یکجہتی کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت ہوش کے ناخن لے، ورنہ اگر حکومت نہیں چلا سکتے تو عوام کی بہتری کے لیے خود الگ ہو جائیں۔








