ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ پر ایٹمی تنصیبات کا دورہ کرنے پر پابندی لگادی
ایران نے آئی اے ای اے کے سربراہ پر پابندی عائد کردی
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی پارلیمنٹ کے نائب سپیکر حامد رضا حاجی بابائی کا کہنا ہے کہ ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی پر ایرانی ایٹمی تنصیبات کا دورہ کرنے پر پابندی لگادی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اہم بھارتی شخصیت نے اسرائیل کا دورہ کیوں کیا، دفاع سے متعلق کیا کچھ خریدنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
پابندی کی وجوہات
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق، نائب سپیکر نے وضاحت کی ہے کہ یہ اقدام اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ ایرانی ایٹمی تنصیبات سے متعلق معلومات اسرائیلی حکومت سے حاصل شدہ دستاویزات میں پائی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر اسرائیل کا حملہ ناقابل قبول اور بلاجواز ہے، دفتر خارجہ
مصداقیت کے خدشات
حامد رضا حاجی بابائی نے مزید کہا کہ آئی اے ای اے کو اب ان تنصیبات پر نگرانی کے کیمرے لگانے کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے آج اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کو آگاہ کیا ہے کہ وہ آنکھ کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں،ذلفی بخاری
ایرانی وزیرخارجہ کا مؤقف
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا کہ گروسی کا دورہ بے معنی ہوگا اور ممکن ہے یہ بدنیتی پر مبنی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سب سے اہم کام مختلف اسٹیشنوں سے لائی گئی رقوم وصول کرنا ہوتا ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ گارڈ رقم گن کر کسی کو پکڑا دے یا نوٹوں سے بھرالفافہ تھما دے۔
پہلے سے طے شدہ اقدامات
اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ پہلے ہی آئی اے ای اے سے تعاون ختم کرنے کی منظوری دے چکی ہے اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے گروسی کو اسرائیل کا محافظ اور غلام قرار دیا تھا۔
امریکی حملوں کے تناظر میں دورہ
واضح رہے کہ رافیل گروسی نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد ان تنصیبات کا دورہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔








