ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ پر ایٹمی تنصیبات کا دورہ کرنے پر پابندی لگادی
ایران نے آئی اے ای اے کے سربراہ پر پابندی عائد کردی
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی پارلیمنٹ کے نائب سپیکر حامد رضا حاجی بابائی کا کہنا ہے کہ ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی پر ایرانی ایٹمی تنصیبات کا دورہ کرنے پر پابندی لگادی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور ایران کے درمیان جامع امن معاہدہ ہوجائیگا: امریکی مندوب
پابندی کی وجوہات
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق، نائب سپیکر نے وضاحت کی ہے کہ یہ اقدام اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ ایرانی ایٹمی تنصیبات سے متعلق معلومات اسرائیلی حکومت سے حاصل شدہ دستاویزات میں پائی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ریپ کے معاملے پر بے بنیاد کہانی کا الزام: مریم نواز
مصداقیت کے خدشات
حامد رضا حاجی بابائی نے مزید کہا کہ آئی اے ای اے کو اب ان تنصیبات پر نگرانی کے کیمرے لگانے کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی خضدار میں سکول بچوں کی بس پر دہشتگردانہ حملے کی مذمت
ایرانی وزیرخارجہ کا مؤقف
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا کہ گروسی کا دورہ بے معنی ہوگا اور ممکن ہے یہ بدنیتی پر مبنی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو ملنے والے نئے بیرونی قرضوں میں 18فیصد سے زیادہ کا اضافہ
پہلے سے طے شدہ اقدامات
اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ پہلے ہی آئی اے ای اے سے تعاون ختم کرنے کی منظوری دے چکی ہے اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے گروسی کو اسرائیل کا محافظ اور غلام قرار دیا تھا۔
امریکی حملوں کے تناظر میں دورہ
واضح رہے کہ رافیل گروسی نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد ان تنصیبات کا دورہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔








