اصفہان کی نیوکلیئر لیبارٹری پر بنکر بسٹر بم نہیں گرائے گئے، جنرل ڈین کین کی سینیٹرز کو خفیہ بریفنگ
ایران کی نیوکلیئر سائٹس پر بموں کا استعمال
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی افواج نے ایران کے سب سے بڑے نیوکلیئر مراکز میں سے ایک، اصفہان پر "بنکر بسٹر" بم استعمال نہیں کیے کیونکہ یہ مرکز اتنی گہرائی میں واقع ہے کہ ان بموں کا اثر ممکنہ طور پر ناکام رہتا، یہ انکشاف امریکہ کے اعلیٰ ترین جنرل، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے جمعرات کو سینیٹرز کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔
یہ بھی پڑھیں: واہگہ بارڈر پہلے کتنی مرتبہ بند ہو چکا ہے؟ جانئے
اصفہان کی نیوکلیئر سائٹ کی اہمیت
یہ پہلا موقع ہے جب کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار نے اس سوال کا واضح جواب دیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے مرکزی شہر اصفہان میں موجود نیوکلیئر سائٹ پر "Massive Ordnance Penetrator" بم کیوں نہیں گرائے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ اصفہان کی زیر زمین تنصیبات میں ایران کے تقریباً 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر موجود ہیں، جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ عبدالعزیز ایئر پورٹ نے 2025 میں ریکارڈ 53.4 ملین مسافروں کو خدمات فراہم کیں
امریکی بمباری کی نوعیت
امریکی B-2 بمبار طیاروں نے ایران کے فردو اور نطنز میں واقع نیوکلیئر تنصیبات پر درجنوں بنکر بسٹر بم گرائے، تاہم اصفہان پر صرف ٹوماہاک میزائل داغے گئے، جو ایک امریکی آبدوز سے فائر کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی پر گرفتار شہری پاکستانی نہیں بلکہ افغان ہے: پاکستان دفتر خارجہ
خفیہ بریفنگ کی تفصیلات
یہ خفیہ بریفنگ جنرل ڈین کین، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، وزیر خارجہ مارکو روبیو، اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے قانون سازوں کو دی۔ جنرل کین کے ترجمان نے اس بریفنگ پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس کو دی جانے والی خفیہ بریفنگ پر رائے نہیں دے سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: مردانگی کا بحران اور سماجی اثرات: بے اولادی کی وجوہات کیا ہیں؟
سی آئی اے کی اطلاعات
بریفنگ کے دوران سی آئی اے ڈائریکٹر ریٹکلف نے قانون سازوں کو بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ایران کا زیادہ تر افزودہ جوہری مواد اصفہان اور فردو کے اندر زیر زمین محفوظ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر عبدالعلیم خان سے آئی آر یو کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات
سیاسی تبصرے
ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ایران کی کچھ جوہری صلاحیتیں اتنی گہرائی میں چلی گئی ہیں کہ ہم ان تک کبھی نہیں پہنچ سکتے۔ وہ اپنی افزودہ یورینیم کو ایسی جگہوں پر منتقل کر چکے ہیں جہاں امریکی بمباری کی کوئی گنجائش نہیں۔"
خلاصہ
یہ انکشافات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور دنیا بھر کی نظریں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی پر مرکوز ہیں۔








