منہ زور پانی میں ڈوبتی انسانیت اور اشرافیہ کے ہاتھوں یرغمال ریاست
خواجہ سعد رفیق کا مایوس کن پیغام
مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق کی جانب سے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ "ایکس" پر کی گئی ٹویٹ نے میرے دل و دماغ کو الجھایا۔ یہ ٹویٹ میں نے کئی بار پڑھا۔ خواجہ صاحب کے الفاظ "نشتر" بن کر دل میں کچوکے لگانے لگے۔
یہ بھی پڑھیں: تشدد کو رومانٹک بنا کر پیش کرنے پر اداکارہ مشی خان برہم ہو گئی
دریائے سوات کا المیہ
اپنے ٹویٹ میں ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ "دریائے سوات میں طوفانی لہروں میں گھرے بے یارو مددگار اٹھارہ افراد کا یکے بعد دیگرے بہہ جانا قیامت خیز المیہ ہے۔" ان کی اذیت اور بے بسی کی داستان دل کو چُھو لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
انسانیت کی بے حرمتی
خواجہ سعد رفیق نے تشویش کا اظہار کیا کہ المناک سانحات کا تسلسل بڑھتا جا رہا ہے لیکن کس کو فرق پڑتا ہے؟ ہمارے وطن میں انسانی زندگی کی بے وقعتی ہولناک واقعات کا باعث بن چکی ہے۔ حکمران طبقہ صرف مذمت کرتا ہے لیکن حقیقی مسائل کا حل تلاش نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی جریدے کی بشریٰ بی بی کے بارے میں رپورٹ پر عظمیٰ بخاری کا رد عمل بھی آ گیا
اجتماعی غفلت اور بے حسی
خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ "ووٹ کے ذریعے تبدیلی سے عوامی اعتبار اٹھ چکا ہے۔" عوام کو انصاف اور انسانی زندگی کے تحفظ کے لئے کوئی پائیدار حل نہیں مل رہا ہے، جس کی وجہ سے عوام کی بے چینی بڑھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا بڑا سائبر اٹیک، اہم بھارتی سائٹس اور ہزاروں سرویلنس کیمرے ہیک
سوالات میں دفن مستقبل
دریائے سوات کی بے رحم موجوں میں ڈوبتے اٹھارہ خواب اور زندگیاں ہمیشہ کے لیے بند ہو چکیں۔ یہ منظر صرف ایک سانحے کا نہیں بلکہ ایک سوال کا ہے: ہم کب جاگیں گے؟
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ہیکرز نے بھارتی فضائیہ اور فوج کی ویب سائٹس ہیک کر لیں
ماضی کی رنجیدہ کہانیاں
ہمارے ہاں ریاستی ڈھانچہ ہر سانحے کے بعد ایک رسمی تعزیت دیتا ہے، پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ انسانی جان کی حرمت کی کوئی قیمت نہیں رہ گئی۔ آج انسان پانی میں ڈوب رہے ہیں اور حکمران صرف اظہارِ افسوس کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس کا ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان، برطانیہ بھی پرعزم، امریکہ و اسرائیل کی شدید مخالفت
ریاست کی ذمہ داریاں
اگر آج سوات کے دریا میں لوگ مر رہے ہیں تو کل کہیں اور یہ سانحہ دہرایا جا سکتا ہے۔ انسانی جان کے تحفظ کے بغیر کوئی ریاست حقیقت میں ریاست نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا سٹار احمد شاہ کا چھوٹا بھائی عمر انتقال کرگیا
امید کا چراغ
لیکن کچھ لوگ ہیں جو یہ سوالات اٹھاتے ہیں اور اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ ہمیں ہر سانحے پر صرف آنکھ نم نہیں کرنی بلکہ زبان بھی کھولنی ہوگی۔ یہ قوم مزید جنازے نہیں اٹھا سکتی۔
نتیجہ
اگر لاوا پھٹ پڑا تو تاریخ لکھی جائے گی، مگر شاید لکھنے والے ہاتھ باقی نہ رہیں۔ ہمیں جاگنا ہوگا، سوچنا ہوگا، بولنا ہوگا، اور بہتری کے لئے اقدام کرنا ہوگا۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس '[email protected]' یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔








