منہ زور پانی میں ڈوبتی انسانیت اور اشرافیہ کے ہاتھوں یرغمال ریاست
خواجہ سعد رفیق کا مایوس کن پیغام
مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق کی جانب سے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ "ایکس" پر کی گئی ٹویٹ نے میرے دل و دماغ کو الجھایا۔ یہ ٹویٹ میں نے کئی بار پڑھا۔ خواجہ صاحب کے الفاظ "نشتر" بن کر دل میں کچوکے لگانے لگے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اسلامی اور ہمسایہ ممالک کے نام پیغام جاری کردیا
دریائے سوات کا المیہ
اپنے ٹویٹ میں ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ "دریائے سوات میں طوفانی لہروں میں گھرے بے یارو مددگار اٹھارہ افراد کا یکے بعد دیگرے بہہ جانا قیامت خیز المیہ ہے۔" ان کی اذیت اور بے بسی کی داستان دل کو چُھو لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مدرسے کے 11 سالہ طالبِ علم سے مبینہ زیادتی کے الزام میں استاد گرفتار
انسانیت کی بے حرمتی
خواجہ سعد رفیق نے تشویش کا اظہار کیا کہ المناک سانحات کا تسلسل بڑھتا جا رہا ہے لیکن کس کو فرق پڑتا ہے؟ ہمارے وطن میں انسانی زندگی کی بے وقعتی ہولناک واقعات کا باعث بن چکی ہے۔ حکمران طبقہ صرف مذمت کرتا ہے لیکن حقیقی مسائل کا حل تلاش نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: ہمایوں سعید فلرٹ نہیں کرتے، ان کی چھیڑ چھاڑ صرف دوستانہ ماحول میں ہوتی ہیں، مہوش حیات
اجتماعی غفلت اور بے حسی
خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ "ووٹ کے ذریعے تبدیلی سے عوامی اعتبار اٹھ چکا ہے۔" عوام کو انصاف اور انسانی زندگی کے تحفظ کے لئے کوئی پائیدار حل نہیں مل رہا ہے، جس کی وجہ سے عوام کی بے چینی بڑھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینئر سیاستدان چوہدری نثار کا علاج کیلئے بیرون ملک جانے کا فیصلہ
سوالات میں دفن مستقبل
دریائے سوات کی بے رحم موجوں میں ڈوبتے اٹھارہ خواب اور زندگیاں ہمیشہ کے لیے بند ہو چکیں۔ یہ منظر صرف ایک سانحے کا نہیں بلکہ ایک سوال کا ہے: ہم کب جاگیں گے؟
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کے مابین سیز فائر کا معاہدہ طے پاگیا: خواجہ آصف
ماضی کی رنجیدہ کہانیاں
ہمارے ہاں ریاستی ڈھانچہ ہر سانحے کے بعد ایک رسمی تعزیت دیتا ہے، پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ انسانی جان کی حرمت کی کوئی قیمت نہیں رہ گئی۔ آج انسان پانی میں ڈوب رہے ہیں اور حکمران صرف اظہارِ افسوس کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ کے فوری بعد بلدیاتی انتخابات کرائیں گے، عظمیٰ بخاری
ریاست کی ذمہ داریاں
اگر آج سوات کے دریا میں لوگ مر رہے ہیں تو کل کہیں اور یہ سانحہ دہرایا جا سکتا ہے۔ انسانی جان کے تحفظ کے بغیر کوئی ریاست حقیقت میں ریاست نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی اتنے ننھے کاکا نہیں کہ گھر میں سب کچھ ہورہا ہو اور ان کا علم نہ ہو، عمران اسماعیل
امید کا چراغ
لیکن کچھ لوگ ہیں جو یہ سوالات اٹھاتے ہیں اور اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ ہمیں ہر سانحے پر صرف آنکھ نم نہیں کرنی بلکہ زبان بھی کھولنی ہوگی۔ یہ قوم مزید جنازے نہیں اٹھا سکتی۔
نتیجہ
اگر لاوا پھٹ پڑا تو تاریخ لکھی جائے گی، مگر شاید لکھنے والے ہاتھ باقی نہ رہیں۔ ہمیں جاگنا ہوگا، سوچنا ہوگا، بولنا ہوگا، اور بہتری کے لئے اقدام کرنا ہوگا۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس '[email protected]' یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔








