غزہ: اسرائیلی فوجی محاصرے، 66 بچے غذائی قلت سے جاں بحق
غزہ میں بچوں کی غذائی قلت
غزہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے غزہ میں 66 بچوں کی غذائی قلت کے باعث اموات کو تشویشناک قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی سیٹ کریں یا جرمانے لگائیں، ہم احتجاج کریں گے: ملک احمد بھچر
اسرائیلی محاصرہ اور اس کے اثرات
روزنامہ جنگ نے عرب میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ غزہ کی حکومت کے میڈیا آفس نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجی محاصرے بچوں کے دودھ، غذائی سپلیمنٹس اور کھانے کی اشیاء کو فلسطینی علاقے میں داخلے سے روک رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی اور مقامی مارکیٹس میں سونے کی قیمتیں سابقہ سطح پر برقرار
انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے خلاف قحط کو بطور ہتھیار استعمال کیا جانا اور یہ جاری محاصرے ایک جنگی جرم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی نے سب سے اہم فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ قائد اعظم ٹرافی کو ملتوی کر دیا
عالمی برادری کا کردار
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم پر عالمی برادری کا خاموش رہنا شرمناک ہے، یہاں بچے بھوک اور بیماریوں کا شکار ہوکر مر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حسین حمید نے سالانہ جمخانہ گالف چیمپئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا
حملوں میں شدت اور متاثرہ افراد
غزہ کی حکومت کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے حملوں کی شدت میں اضافہ کردیا ہے جس میں مزید 60 افراد شہید ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کس خاتون رکن کی اجلاس میں تعریف کر دی ؟ جانیے
یونیسف کی تشویش
بچوں کے عالمی ادارے یونیسف نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بچوں کی بڑھتی اموات کو تشویشناک قرار دیا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار
ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق صرف مئی کے مہینے میں 5 ہزار 119 بچے جاں بحق ہوئے، جن کی عمریں 6 ماہ سے 5 سال کے درمیان تھیں۔








