غزہ: اسرائیلی فوجی محاصرے، 66 بچے غذائی قلت سے جاں بحق
غزہ میں بچوں کی غذائی قلت
غزہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے غزہ میں 66 بچوں کی غذائی قلت کے باعث اموات کو تشویشناک قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں تعلیمی ادارے کل سے کھولنے کا فیصلہ
اسرائیلی محاصرہ اور اس کے اثرات
روزنامہ جنگ نے عرب میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ غزہ کی حکومت کے میڈیا آفس نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجی محاصرے بچوں کے دودھ، غذائی سپلیمنٹس اور کھانے کی اشیاء کو فلسطینی علاقے میں داخلے سے روک رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر احتجاج کیس، انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کا علیمہ خان کا ایک بینک اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے کا حکم
انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے خلاف قحط کو بطور ہتھیار استعمال کیا جانا اور یہ جاری محاصرے ایک جنگی جرم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہم کسی کی زیادتی کے آگے ہر گز سر نہیں جھکائیں گے، یہ ایرانی قوم کی منطق ہے: آیت اللہ خامنہ ای
عالمی برادری کا کردار
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم پر عالمی برادری کا خاموش رہنا شرمناک ہے، یہاں بچے بھوک اور بیماریوں کا شکار ہوکر مر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی، آئی سی سی کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی، لیکن کیوں؟ وجہ بھی سامنے آ گئی
حملوں میں شدت اور متاثرہ افراد
غزہ کی حکومت کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے حملوں کی شدت میں اضافہ کردیا ہے جس میں مزید 60 افراد شہید ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم شہباز شریف کی قطر میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات
یونیسف کی تشویش
بچوں کے عالمی ادارے یونیسف نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بچوں کی بڑھتی اموات کو تشویشناک قرار دیا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار
ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق صرف مئی کے مہینے میں 5 ہزار 119 بچے جاں بحق ہوئے، جن کی عمریں 6 ماہ سے 5 سال کے درمیان تھیں۔








