جب جب بھی ہندوستان کو فتح کرنے کی کوشش ہوئی افغانستان سے آتے حملہ آوروں کے گھوڑوں کے سموں کی ٹاپیں سب سے پہلے پشاور میں سنائی دیں
پشاور چھاؤنی اسٹیشن
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 172
پشاور چھاؤنی کے اسٹیشن پر 3 پلیٹ فارم ہیں اور یہ بہت ہی خوبصورت عمارت ہے۔ اس کے پلیٹ فارم وسیع و عریض رقبے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ میں اس خوبصورت اسٹیشن کی عمارت کو بہت اچھی طرح اندر باہر سے گھوم پھرتے ہوئے دیکھ چکا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: 1965ء کی جنگ شروع ہوئی تو لاہور اس کا مرکزی میدان کار زار ٹھہرا، اور یوں سڑک کا رابطہ بھی معطل ہو گیا اور کھوکھرا پار والی لائن بھی بند کردی گئی۔
پشاور: شہر گل
پشاور۔ پھولوں کے نگر میرے
چاہتوں کے گھر میرے
اے میرے پشاور آج
یاد تیری آتی ہے
یہ بھی پڑھیں: شکریہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
تاریخی اہمیت
پشاور شہر ایک بہت ہی تاریخی نوعیت کا شہر ہے۔ جب بھی ہندوستان کو فتح کرنے کی کوشش ہوئی تو افغانستان کی طرف سے آتے ہوئے حملہ آوروں کے گھوڑوں کے سموں کی ٹاپیں سب سے پہلے اسی شہر میں سنائی دیں۔ پرانا پشاور شہر بہت خوبصورت بازاروں، محلوں اور باغات پر مشتمل تھا جہاں ورق ورق تاریخ بکھری پڑی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر ہائیکورٹ کا سرکاری بھرتی کیلئے تھرڈ پارٹی ایکٹ بحال کرنے کا حکم
قصہ خوانی بازار
پشاور کا قصہ خوانی بازار ایک بہت ہی تاریخی مقام ہے، جہاں مختلف ملکوں سے آئے ہوئے تاجر مل کر بیٹھ جاتے اور پھر قصہ گوئی کی طویل محفلیں جمتی تھیں، اپنی آپ بیتیاں سنائی جاتیں اور دوسروں کی جگ بیتیاں سنی جاتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: مسلح افواج جواب دے رہی ہیں، بھارت کی جارحیت کو کچل دیا جائے گا: بلاول بھٹو زرداری
صوبائی دارالحکومت
پشاور، صوبہ خیبر پختون خوا کا صدر مقام ہونے کی وجہ سے پاکستان کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ صوبائی ہیڈ کوارٹرز ہونے کی وجہ سے یہاں صوبائی اور قومی سطح کے بے شمار سرکاری اور غیر سرکاری ادارے موجود ہیں۔ یہاں کا اپنا ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی ہے۔ موٹر وے سے منسلک ہونے کی وجہ سے اب اس کا پاکستان کے ہر بڑے شہر سے رابطہ موجود ہے۔ دوسری طرف یہ افغانستان کے شہروں، خصوصاً جلال آباد اور کابل سے بھی اچھی شاہراہوں کے ذریعے منسلک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پشاور زلمی کو 64 رنز سے شکست دے دی
تعلیمی معیار
پشاور تعلیم کے میدان میں بھی بہت آگے ہے۔ یہاں قدیم اسلامیہ کالج یونیورسٹی ہے جس کو قائد اعظم ہمیشہ "میرا اپنا کالج" کہا کرتے تھے اور وہ اس میں زیر تعلیم طالب علموں سے بڑی محبت اور شفقت کیا کرتے تھے۔ پشاور یونیورسٹی پاکستان کے ایک بہت بڑے تعلیمی ادارے کے روپ میں سامنے آئی ہے، اس کی حال ہی میں تعمیر کی گئیں عظیم عمارتیں خوبصورتی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی ہیں۔
پشاور میں انجنیئرنگ اور ایگریکلچر یونیورسٹی، میڈیکل کالج، کمپیوٹر اور مینجمنٹ کی تعلیم کے اعلیٰ ادارے موجود ہیں۔ اور بھی کئی نجی تعلیمی ادارے مثلاً فرنٹیر گرلز اینڈ بوائز کالج کے علاوہ بے شمار اسکول، کالج اور نجی یونیورسٹیاں بھی قائم ہیں، جہاں اعلیٰ درجے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ خواتین میں بھی تعلیم کا بڑا رحجان ہے۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








