بھارت اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، وہ اپنی مرضی ہم پر مسلط نہیں کرسکتا: نائب وزیراعظم
اسحاق ڈار کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت اپنی مرضی پاکستان پر مسلط نہیں کرسکتا لہٰذا وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں کرسمس تقریب، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کیک کاٹا
بھارتی جارحیت کا جواب
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹیڈیز کے یوم تاسیس سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں پاکستان پر جارحیت مسلط کی اور ہم نے بھارتی جارحیت کا فوری اور موثر جواب دیا۔ بھارت نے پہلگام واقعہ پر جھوٹا ڈراما رچایا، بھارت اپنی پالیسیوں پر ایک بار نظر ثانی کرے۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ مکرمہ میں زمین سے فضا میں مار کرنے والا دفاعی میزائل سسٹم نصب کردیا گیا
پاکستان کا عزم
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے، بھارت اپنی مرضی پاکستان پر مسلط نہیں کرسکتا۔ بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا، بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس کے زیر حراست ملزمان پر تشدد اور قتل کے مقدمے کی تفتیش کون کرے گا؟ لاہور ہائیکورٹ نے قانونی نکتہ طے کردیا
کشمیر کا مسئلہ
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے، اس مسئلے کے پرامن حل سے خطے میں امن ہوگا۔ بھارت عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے اور پاکستان پرامن بقائے باہمی کے اصول پر عمل پیرا ہے۔
مشرق وسطی کی صورتحال
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایران اسرائیل جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، پاکستان ایران کے قانونی مؤقف کی ہمیشہ تائید کرتا رہا ہے۔ ایران کے جوہری مسئلے کا حل بات چیت سے نکالا جائے جبکہ غزہ میں انسانیت سوز مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ پاکستان کو مشرق وسطی کی حالیہ صورتحال پر تشویش ہے۔








