بھارت اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، وہ اپنی مرضی ہم پر مسلط نہیں کرسکتا: نائب وزیراعظم
اسحاق ڈار کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت اپنی مرضی پاکستان پر مسلط نہیں کرسکتا لہٰذا وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 2100روپے اضافہ
بھارتی جارحیت کا جواب
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹیڈیز کے یوم تاسیس سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں پاکستان پر جارحیت مسلط کی اور ہم نے بھارتی جارحیت کا فوری اور موثر جواب دیا۔ بھارت نے پہلگام واقعہ پر جھوٹا ڈراما رچایا، بھارت اپنی پالیسیوں پر ایک بار نظر ثانی کرے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی: خیبر پختونخوا میں شہدا اور زخمیوں کے ورثا کے لئے امدادی پیکیج کا اعلان
پاکستان کا عزم
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے، بھارت اپنی مرضی پاکستان پر مسلط نہیں کرسکتا۔ بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا، بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے ستلج کے سیلابی ریلوں سے بہاولپور کے 7بند ٹوٹنے سے ہزاروں ایکڑ فصلیں زیر آب آگئیں
کشمیر کا مسئلہ
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے، اس مسئلے کے پرامن حل سے خطے میں امن ہوگا۔ بھارت عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے اور پاکستان پرامن بقائے باہمی کے اصول پر عمل پیرا ہے۔
مشرق وسطی کی صورتحال
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایران اسرائیل جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، پاکستان ایران کے قانونی مؤقف کی ہمیشہ تائید کرتا رہا ہے۔ ایران کے جوہری مسئلے کا حل بات چیت سے نکالا جائے جبکہ غزہ میں انسانیت سوز مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ پاکستان کو مشرق وسطی کی حالیہ صورتحال پر تشویش ہے۔








