بھارت اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، وہ اپنی مرضی ہم پر مسلط نہیں کرسکتا: نائب وزیراعظم

اسحاق ڈار کا بیان

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت اپنی مرضی پاکستان پر مسلط نہیں کرسکتا لہٰذا وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔

یہ بھی پڑھیں: حلیم عادل شیخ اور انکے بھائی جعل سازی کے مقدمے میں بری

بھارتی جارحیت کا جواب

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹیڈیز کے یوم تاسیس سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں پاکستان پر جارحیت مسلط کی اور ہم نے بھارتی جارحیت کا فوری اور موثر جواب دیا۔ بھارت نے پہلگام واقعہ پر جھوٹا ڈراما رچایا، بھارت اپنی پالیسیوں پر ایک بار نظر ثانی کرے۔

یہ بھی پڑھیں: مری میں 25 دسمبر اور نیو ائیر پر دفعہ 144 نافذ کردی گئی

پاکستان کا عزم

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے، بھارت اپنی مرضی پاکستان پر مسلط نہیں کرسکتا۔ بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا، بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 20کروڑ ڈالر قرض کی منطوری دیدی

کشمیر کا مسئلہ

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے، اس مسئلے کے پرامن حل سے خطے میں امن ہوگا۔ بھارت عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے اور پاکستان پرامن بقائے باہمی کے اصول پر عمل پیرا ہے۔

مشرق وسطی کی صورتحال

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایران اسرائیل جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، پاکستان ایران کے قانونی مؤقف کی ہمیشہ تائید کرتا رہا ہے۔ ایران کے جوہری مسئلے کا حل بات چیت سے نکالا جائے جبکہ غزہ میں انسانیت سوز مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ پاکستان کو مشرق وسطی کی حالیہ صورتحال پر تشویش ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...