غزہ پر اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملے، مزید 68 فلسطینی شہید ہوگئے
اسرائیل کی بربریت جاری
غزہ میں اسرائیلی فوج کی بربریت جاری ہے، تازہ حملوں میں مزید 68 فلسطینی شہید ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرول کی قیمت میں 45 روپے فی لیٹر اضافے کا خدشہ
بمباری کا نشانہ
نجی ٹی وی جیو نیوز نے عرب میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں ایک پناہ گزین سکول پر بمباری کی گئی۔
اس کے علاوہ غزہ میں امداد کے منتظر فلسطینیوں پر بھی حملہ ہوا۔ اسرائیلی حملوں میں مجموعی طور پر 68 فلسطینی شہید ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا اور پنجاب میں ضمنی انتخابات، الیکشن کمیشن نے ذرائع ابلاغ کے لیے ضابطۂ اخلاق جاری کردیا
فوجی کارروائیوں کے لیے تیاری
دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے ایران سے جنگ بندی کے بعد غزہ میں بڑے آپریشن کی تیاری کرتے ہوئے شمالی غزہ کے گنجان آباد علاقوں کو فوری خالی کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کا قرضہ 36 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا، چین نے کتنے پیسے لینے ہیں؟
علاقوں کے خالی کرنے کا حکم
اسرائیلی فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مشرقی زیتون، تفاح، دراج، صبرہ، جبالیہ البلد، جبالیہ کیمپ اور تل الزعتر سمیت مجموعی طور پر 17 علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر جنوبی علاقے المواسی کیمپ کی جانب منتقل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی ترک صدر سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر زور
عوام کو خبردار کیا گیا
اسرائیلی فوج کی جانب سے عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ فوجی کارروائیاں مزید شدت اختیار کریں گی، اگر ان علاقوں کو فوری خالی نہ کیا گیا تو یہاں کے مکینوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آبی گزرگاہوں پر تعمیرات کی اجازت دیں گے نہ ہی معاوضہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
آپریشن کے توسیع کا عندیہ
اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں آپریشن مکمل کرنے کے بعد اسے وسطی علاقوں تک پھیلانے کا بھی عندیہ دیا ہے۔
حملوں کا سلسلہ
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیلی فوج نے غزہ پر بے رحمانہ حملے جاری رکھے ہیں جن میں اب تک خواتین اور بچوں سمیت 56 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔








