انتہائی امیر لوگوں کا ایک گروپ ٹک ٹاک خریدنے کے لیے تیار ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ کا ٹک ٹاک کی خریداری کا دعویٰ
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’انتہائی امیر لوگوں‘ کا ایک گروہ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک خریدنے کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے عمرہ کی سعادت حاصل کرلی، سیلاب متاثرین کے لئے خصوصی دعائیں
ٹک ٹاک کی فروخت کے لیے چین کی منظوری
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ تقریباً دو ہفتے میں اس بارے میں بتائیں گے۔ ٹک ٹاک کی فروخت کے لیے چین کی حکومت کی منظوری درکار ہے۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں صدر شی جن پنگ اس کی منظوری دے دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے پیغام ہے، اسپیکر اسرائیلی پارلیمنٹ کی قطر پر حملے کے بعد دھمکی
کانگریس کے منظور کردہ قانون کے اثرات
یاد رہے کہ گذشتہ سال اپریل میں امریکی کانگریس نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت ٹک ٹاک کو امریکہ میں صرف اس صورت میں کام کرنے کی اجازت ہوگی اگر وہ اسے فروخت کر دے۔ امریکی قانون سازوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ایپ یا اس کی مالک کمپنی بائیٹ ڈانس امریکی صارفین کا ڈیٹا چینی حکومت کے حوالے کر سکتی ہے۔ تاہم ٹک ٹاک اس کی تردید کرتا آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے ڈبلیو ٹی او کی چودھویں وزارتی کانفرنس میں حاصل ہونیوالی پیش رفت پر تفصیلات شیئر کر دیں
قانون کی تاریخ اور بائیٹ ڈانس کی مدت
یہ قانون رواں سال 19 جنوری کو نافذ ہونا تھا، لیکن ٹرمپ نے بار بار اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس کے نفاذ میں تاخیر کی۔ اب بائیٹ ڈانس کے پاس ٹک ٹاک کو بیچنے کے لیے 17 ستمبر تک کا وقت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جو عزت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے سیاسی مخالفین کو دی ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، صحافی امیر عباس
فروخت کی ناکام کوشش
رواں سال اپریل میں ٹک ٹاک کو فروخت کرنے کی کوشش اس وقت ناکام ہو گئی جب وائٹ ہاؤس اور چین کے درمیان ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے محصولات کو لے کر تنازع پیدا ہو گیا تھا۔
مستقبل کا حال
تاحال یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ نے جس خریدار کا ذکر کیا ہے، یہ وہی ہیں جو تین ماہ قبل ٹک ٹاک کو خریدنے والے تھے۔








