حکومت کا امریکی عدالت میں عافیہ صدیقی کیس میں فریق بننے سے انکار
حکومت کا اہم فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق وفاقی حکومت نے امریکی عدالت میں عافیہ صدیقی کیس میں عدالتی معاونت کرنے اور فریق بننے سے انکار کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہری پوری میں افغان خاتون کے ساتھ 5 افغان پناہ گزین نوجوانوں کی اجتماعی زیادتی
سماعت کا پس منظر
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ اس دوران درخواست گزار کے وکیل عمران شفیق، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے طیارے مشرق وسطیٰ میں آج آسمان پر ہیں، برطانیہ بھی اہم قدم اٹھا لیا
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا بیان
دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے امریکہ میں اس کیس میں فریق نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پر جسٹس سردار اعجاز نے سوال کیا کہ کس وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا؟ وجوہات کیا ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہی فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین کا اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ جی ایچ کیو کا دورہ، آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ون آن ون ملاقات
عدالت کے سوالات
جسٹس سردار اعجاز نے کہا کہ حکومت یا اٹارنی جنرل کوئی فیصلہ کریں تو اس کی وجوہات بھی ہوتی ہیں، بغیر وجوہات کے کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ یہ آئینی عدالت ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی عدالت آ کر کہے فیصلہ یہ کیا ہے لیکن وجوہات نہ بتائے۔
عدالت کی ہدایت
بعد ازاں عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ 4 جولائی کی سماعت پر وجوہات سے آگاہ کیا جائے۔








