حکومت کا امریکی عدالت میں عافیہ صدیقی کیس میں فریق بننے سے انکار
حکومت کا اہم فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق وفاقی حکومت نے امریکی عدالت میں عافیہ صدیقی کیس میں عدالتی معاونت کرنے اور فریق بننے سے انکار کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: تقسیم ہند کے خون خرابے کے باوجود بھارت اور آسٹریلیا کی پہلی ٹیسٹ سیریز جو منسوخ ہونے کے قریب تھی
سماعت کا پس منظر
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ اس دوران درخواست گزار کے وکیل عمران شفیق، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیرِ پیٹرولیم سے سعودی سفیر کی ملاقات
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا بیان
دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے امریکہ میں اس کیس میں فریق نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پر جسٹس سردار اعجاز نے سوال کیا کہ کس وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا؟ وجوہات کیا ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہی فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی وزارت حج و عمرہ نے 1800 غیر ملکی ٹریول ایجنسیز کو معطل کر دیا
عدالت کے سوالات
جسٹس سردار اعجاز نے کہا کہ حکومت یا اٹارنی جنرل کوئی فیصلہ کریں تو اس کی وجوہات بھی ہوتی ہیں، بغیر وجوہات کے کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ یہ آئینی عدالت ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی عدالت آ کر کہے فیصلہ یہ کیا ہے لیکن وجوہات نہ بتائے۔
عدالت کی ہدایت
بعد ازاں عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ 4 جولائی کی سماعت پر وجوہات سے آگاہ کیا جائے۔








