اسرائیلی عدالت نے وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف کرپشن ٹرائل کو 2 ہفتوں کے لیے مؤخر کر دیا
اسرائیلی عدالت کا فیصلہ
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن )اسرائیلی عدالت نے وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے کرپشن ٹرائل کو دو ہفتے کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایجی ٹیشن کی سیاست کا کبھی قائل نہ تھا، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حمایت اور مخالفت کی جانی چاہیے، اور وہ ہاتھا پائی پر آگئے۔
حاضری سے استثنیٰ
تفصیلات کے مطابق یروشلم ڈسٹرکٹ کورٹ نے نیتن یاہو کو سفارتی اور قومی سلامتی کے امور کی وجہ سے حاضری سے استثنیٰ دے دیا۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے خلاف مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کیس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کتابوں کے بنڈل گم ہونے پر آپ کو کس طرح کی سزا بھگتنا پڑ سکتی ہے
امریکی امداد کا اثر
صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد اسرائیلی عدالت کا فیصلہ سامنے آیا، جس میں کہا گیا کہ امریکی امداد کا فیصلہ بھی اس کیس کے نتیجے پر منحصر ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے بابراعظم اور محمد رضوان کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کردیے
عالمی توجہ
واضح رہے کہ اسرائیلی عدالت نے دو روز قبل نیتن یاہو کی سماعت مؤخر کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی، لیکن اس کے بعد جب نئے سفارتی و قومی امور کی وجہ سے سماعت کا مؤخر کیا گیا، تو اس بات نے مزید عالمی توجہ حاصل کی۔
الزامات کی نوعیت
نیتن یاہو پر تین مقدمات میں رشوت، دھوکادہی اور اعتماد شکنی کے الزامات ہیں، جن کے نتیجے میں ان کی سیاسی شہرت اور اسرائیلی حکومت کے مستقبل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں。








