جون میں مہنگائی کی شرح 3 سے 4 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے: وزارت خزانہ
مہنگائی کی شرح کا تخمینہ
ا سلام آ باد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارتِ خزانہ نے ماہانہ اقتصادی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کے مطابق جون میں مہنگائی کی شرح 3 سے 4 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی سے کہا جارہا ہے حکومت کو قبول کریں اور 9 مئی پر معافی مانگیں، علیمہ خان
مہنگائی میں اضافے کا خدشہ
ڈان نیوز نے وزارت خزانہ کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ ماہ وزارت خزانہ نے بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم) کی ترقی کے بارے میں محتاط رویہ اپناتے ہوئے مئی اور جون کے دوران مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: گوجرانوالہ میں عالمی معیار کا ہسپتال جہاں کم وسیلہ لوگوں کا بالکل مفت علاج کیا جائے گا
افراطِ زر کے اعداد و شمار
مئی 2025 میں سال بہ سال مہنگائی کی شرح دسمبر کے بعد بلند ترین سطح پر تھی، جو کئی ماہ کے وقفے کے بعد افراطِ زر کے دوبارہ بڑھنے کا اشارہ دیتی ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مئی میں مہنگائی کی شرح 3.46 فیصد رہی، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جون 2025 کے لیے مہنگائی کی شرح 3 سے 4 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب خضرافضال کی زیر صدارت کھیلتا پنجاب گیمز کے حوالے سے اہم اجلاس
بڑی صنعتوں کی صورتحال
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ آنے والے مہینوں میں بڑی صنعتوں کی صورتحال مثبت دکھائی دیتی ہے، جس کی بنیاد سیمنٹ کی فروخت اور گاڑیوں کی خریداری جیسے اشاریوں پر رکھی گئی ہے۔ مئی میں کاروں، سپورٹ یوٹیلیٹی وہیکلز (ایس یو ویز)، پک اپس اور وینز کی فروخت 14 ہزا 762 یونٹس تک پہنچی، جو کہ سال بہ سال 35 فیصد اور ماہ بہ ماہ 39 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے مشرق وسطیٰ سے اپنے غیر سفارتی عملے کے رضاکارانہ انخلا کی منظوری دیدی
ایل ایس ایم کی کارکردگی
تاہم، وزارت خزانہ کے مطابق اپریل 2025 میں ایل ایس ایم کی کارکردگی ملی جلی رہی، جہاں سالانہ بنیاد پر 2.3 فیصد اضافہ ہوا، لیکن ماہانہ بنیاد پر 3.2 فیصد کمی دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام اور قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے:صدر مملکت آصف علی زرداری
نجی شعبے کے قرضے اور معیشت کی حالت
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نجی شعبے کو قرضوں میں اضافہ پیداوار میں بہتری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ غزہ پٹی کے حوالے سے اسرائیل کے خفیہ مقاصد بے نقاب
کرنٹ اکاؤنٹ کا تجزیہ
کرنٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ مالی سال 25-2024 کے جولائی تا مئی کے عرصے میں ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافے کی بدولت بیرونی کھاتوں کی پوزیشن میں بہتری آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلمان اپنی نالائقیوں کی وجہ سے اپنا سب کچھ کھو چکے تھے، ہندو اپنی عیاری سے اب انگریز کیساتھ مل گیا تھا،مسلمانوں کیلئے ہر طرح کی مشکلات تھیں
زرعی شعبے کی ممکنہ ترقی
زرعی شعبے سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا کہ معیاری بیجوں اور مشینی کاشت کے استعمال سے زرعی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’زرعی مشینری کی درآمدات جولائی تا اپریل مالی سال 2025 کے دوران 10 فیصد بڑھ کر 6 کروڑ 92 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو کہ مشینی کاشت میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں‘۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور زمبابوے کی ٹی ٹوئنٹی سیریز: “ماڈرن ٹی ٹوئنٹی انقلاب میں پاکستان کا آغاز”
مالی سال کی پیشگوئی
اس سے قبل رواں ماہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اقتصادی جائزہ 25-2024 پیش کرتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا تھا کہ مالی سال کے اختتام تک ملک کی معیشت 2.7 فیصد کی شرح نمو حاصل کر لے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عاقب جاوید نے فخر زمان کو دورہ جنوبی افریقہ کے لیے ٹیم میں شامل نہ کرنے کی وجہ بتا دی
جی ڈی پی کی نمو کے اعداد و شمار
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 1.37 فیصد، دوسری سہ ماہی میں 1.53 فیصد، اور تیسری سہ ماہ میں 2.4 فیصد رہی، اس کا مطلب ہے کہ 2.7 فیصد کا ہدف حاصل کرنے کے لیے اپریل تا جون کے 3 مہینوں میں 5.5 فیصد شرح نمو حاصل کرنا ہوگی۔
مستقبل کے چیلنجز
تاہم یہ شرح اب بھی مقرر کردہ 3.6 فیصد ہدف سے کم ہے، یہ مسلسل تیسرا سال ہے کہ حکومت اپنی مقررہ شرح نمو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔








