کراچی میں ٹرمپ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست
کراچی کی ایڈیشنل سیشن عدالت میں کارروائی
کراچی کی ایڈیشنل سیشن عدالت نے عالمی قوانین اور جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی اور ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مقدمے کی درخواست پر اختیارات اور حدود سے متعلق دلائل طلب کرلیے ہیں۔ یہ درخواست کراچی سٹی کورٹ میں قائم ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں دائر کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈر مائیکل بریسویل ٹی 20 ورلڈکپ سے باہر ہوگئے
درخواست کا پس منظر
درخواست وکیل جمشید علی خواجہ کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس ایچ او ڈاکس کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں ڈونلڈ ٹرمپ کو بطور ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی صارفین نے عمران وسیم کو ٹیریان کو تحریک میں شامل کرنے کے پیغام پر آڑے ہاتھوں لے لیا
مجرمانہ سرگرمیوں کا دعویٰ
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل مجرمانہ سرگرمیاں اور عالمی قوانین و جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزیاں ہیں۔ انہوں نے کراچی پولیس کے اعلیٰ افسران کو شکایتی درخواستیں دیں، مگر نہ تو ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ ہی بیان ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: میر علی میں خوارج کا خودکش حملہ ناکام، 4خوارجی جہنم واصل
حملے کے نتائج
درخواست میں کہا گیا کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ عالمی امن کے لئے خطرہ ہے اور کروڑوں مسلمان اور ہزاروں وکلا جسمانی، ذہنی اور مالی نقصانات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پولیس کو سیکشن 154 سی آر پی سی کے تحت بیان ریکارڈ کرکے مقدمہ اندراج کا حکم دیا جائے۔
عدالت کی کارروائی
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے درخواست سماعت کے لئے ایڈیشنل سیشن عدالت منتقل کر دی۔ ایڈیشنل سیشن عدالت نے درخواست پر اختیارات اور حدود سے متعلق دلائل طلب کر لیے اور درخواست گزار کے وکیل کو آئندہ سماعت پر دلائل دینے کی ہدایت کی۔ عدالت نے درخواست کی مزید سماعت جولائی تک ملتوی کر دی۔








