فلسطین میں موت کا رقص جاری، پاکستانی سفیر نے اقوام متحدہ میں حقائق بے نقاب کر دیے
پاکستان کا ردعمل
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے، جو سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 (قابض فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی غیر قانونی بستیوں) کے نفاذ سے متعلق ہے۔ اس رپورٹ میں غزہ میں انسانی تکلیف اور سفاکی کی سطح کو حیران کن اور ناقابل برداشت قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کے اجلاسوں میں کیا ہو رہا ہے ۔۔۔؟ شاہزیب خانزادہ نے بتا دیا
سیکرٹری جنرل کی تشویش
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سیکرٹری جنرل نے رپورٹ میں بتایا کہ خاندانوں کو بار بار نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ہے اور وہ اب غزہ کی زمین کے پانچویں حصے سے بھی کم جگہ پر محصور ہیں، جبکہ یہ جگہیں بھی خطرے کی زد میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کا سالانہ بجٹ 2025-2026 پیش: یہ صرف مالی دستاویز نہیں، انصاف کے وعدوں کا ایک اور ثبوت ہے: وزیر خزانہ
بچوں کی حالت زار
سفیر عاصم نے کہا کہ بچے غذائی قلت کے باعث جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں، حالانکہ یونیسیف بار بار خبردار کر چکا ہے کہ غذائی قلت خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ صرف مئی کے مہینے میں چھ ماہ سے پانچ سال کے 5,100 سے زائد بچوں کو شدید غذائی قلت کے علاج کے لیے داخل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایئر بس طیاروں کا سافٹ ویئر فوری اپ ڈیٹ کرنے سے متعلق قومی ایئر لائن نے وضاحت جاری کردی
بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ میں اسرائیل کے جنگی طریقوں اور ہتھکنڈوں پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور مظالم کے فوری احتساب کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کس شعبے میں کتنے فیصد اضافہ ہوا؟ وزیر خزانہ نے قومی اقتصادی سروے پیش کر دیا
نیا امدادی تقسیم نظام
پاکستانی سفیر نے کہا کہ نام نہاد نیا امدادی تقسیم نظام نہ صرف بین الاقوامی انسانی قانون کے منافی ہے بلکہ یہ بھوکے شہریوں کو براہ راست خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 500 سے زائد افراد کو صرف انسانی امداد حاصل کرنے کی کوشش میں قتل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اداکار ارباز خان نے خوشبو کے ساتھ اپنی طلاق کی تصدیق کر دی
تشدد کی دیگر شکلیں
تشدد صرف غزہ تک محدود نہیں ہے؛ اسرائیل نے مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں فوجی چھاپوں میں شدت پیدا کی ہے۔ اوچا کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے 19 جون 2025 تک مغربی کنارے میں 949 فلسطینی، جن میں کم از کم 200 بچے شامل ہیں، شہید کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سرپلس ایل این جی کھپانے کے لیے گھریلو گیس کنکشن پر پابندی اٹھانے پر غور شروع
سلامتی کونسل کا کردار
سفیر عاصم نے خبردار کیا کہ اگر سلامتی کونسل اپنی ہی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی نہ بنائے تو اس کے سنگین نتائج عالمی امن و سلامتی کے لیے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: چھ سال بعد پی آئی اے کی پرواز لندن کے لیے روانہ
اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی
یہ سال اقوام متحدہ کے چارٹر کا 80 واں سال ہے جو انصاف، امن اور تمام اقوام کی خودمختاری کے اصولوں پر مبنی ہے۔ مگر غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اس کے بنیادی اصولوں کی مسلسل پامالی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ سے سینیٹ کی خالی نشست پر پیپلز پارٹی کے وقار مہدی کامیاب
اجتماعی عزم کا وقت
سفیر عاصم نے کہا کہ اب وقت ہے کہ مشترکہ عالمی عزم کے تحت مشرق وسطیٰ میں منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسکی ایک عجیب کمزوری تھی، خاتون نے راستہ روکتے کہا”آپ باہر تب جا سکتے ہو جب آئی لو یو کہو گے“اُسے اوکھے سوال میں ڈال دیا تھا
فوری اقدامات کی ضرورت
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر غزہ اور مغربی کنارے میں تمام فوجی کارروائیاں بند کرے۔ انسانی امداد پر عائد تمام پابندیاں بھی ختم کی جائیں۔
بین الاقوامی کانفرنس کی حمایت
سفیر عاصم افتخار نے اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس کے جلد از جلد انعقاد کی حمایت کی تاکہ اس مقصد کو عملی شکل دی جا سکے۔








