فلسطین میں موت کا رقص جاری، پاکستانی سفیر نے اقوام متحدہ میں حقائق بے نقاب کر دیے
پاکستان کا ردعمل
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے، جو سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 (قابض فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی غیر قانونی بستیوں) کے نفاذ سے متعلق ہے۔ اس رپورٹ میں غزہ میں انسانی تکلیف اور سفاکی کی سطح کو حیران کن اور ناقابل برداشت قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر زرداری کو علاج کے لیے دبئی جانے سے کیوں روکا گیا تھا؟ فرحت اللہ بابر کی کتاب میں انکشافات
سیکرٹری جنرل کی تشویش
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سیکرٹری جنرل نے رپورٹ میں بتایا کہ خاندانوں کو بار بار نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ہے اور وہ اب غزہ کی زمین کے پانچویں حصے سے بھی کم جگہ پر محصور ہیں، جبکہ یہ جگہیں بھی خطرے کی زد میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے نعیم اعجاز سمیت 10 افراد پر قتل و اقدام قتل کا مقدمہ درج۔
بچوں کی حالت زار
سفیر عاصم نے کہا کہ بچے غذائی قلت کے باعث جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں، حالانکہ یونیسیف بار بار خبردار کر چکا ہے کہ غذائی قلت خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ صرف مئی کے مہینے میں چھ ماہ سے پانچ سال کے 5,100 سے زائد بچوں کو شدید غذائی قلت کے علاج کے لیے داخل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خصوصی بچوں کی تعلیم میں تاریخی پیش رفت، برٹش کونسل اور سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں معاہدہ
بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ میں اسرائیل کے جنگی طریقوں اور ہتھکنڈوں پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور مظالم کے فوری احتساب کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا ؟
نیا امدادی تقسیم نظام
پاکستانی سفیر نے کہا کہ نام نہاد نیا امدادی تقسیم نظام نہ صرف بین الاقوامی انسانی قانون کے منافی ہے بلکہ یہ بھوکے شہریوں کو براہ راست خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 500 سے زائد افراد کو صرف انسانی امداد حاصل کرنے کی کوشش میں قتل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار بوکھلاہٹ کا شکار، ڈیلی پاکستان کے یوٹیوب چینل کے بعد فیس بک پیج بھی بلاک کردیا
تشدد کی دیگر شکلیں
تشدد صرف غزہ تک محدود نہیں ہے؛ اسرائیل نے مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں فوجی چھاپوں میں شدت پیدا کی ہے۔ اوچا کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے 19 جون 2025 تک مغربی کنارے میں 949 فلسطینی، جن میں کم از کم 200 بچے شامل ہیں، شہید کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ سراؤں سے بھتہ طلب کرنے والے ملزمان کی ضمانت خارج
سلامتی کونسل کا کردار
سفیر عاصم نے خبردار کیا کہ اگر سلامتی کونسل اپنی ہی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی نہ بنائے تو اس کے سنگین نتائج عالمی امن و سلامتی کے لیے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: متوقع برفباری، پی ڈی ایم اے پنجاب کی تیاریاں مکمل، مری میں سیاحوں کیلئے 13 فسیلیٹیشن سنٹرز قائم
اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی
یہ سال اقوام متحدہ کے چارٹر کا 80 واں سال ہے جو انصاف، امن اور تمام اقوام کی خودمختاری کے اصولوں پر مبنی ہے۔ مگر غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اس کے بنیادی اصولوں کی مسلسل پامالی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے جرمن ادارے ہوپ چلڈرن کینسر سینٹر کے اعلیٰ سطح کے وفد کی ملاقات
اجتماعی عزم کا وقت
سفیر عاصم نے کہا کہ اب وقت ہے کہ مشترکہ عالمی عزم کے تحت مشرق وسطیٰ میں منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: طیارے کی مگر مچھوں سے بھری دلدل میں ہنگامی لینڈنگ، 5 مسافروں نے 36 گھنٹے کیسے گزارے؟
فوری اقدامات کی ضرورت
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر غزہ اور مغربی کنارے میں تمام فوجی کارروائیاں بند کرے۔ انسانی امداد پر عائد تمام پابندیاں بھی ختم کی جائیں۔
بین الاقوامی کانفرنس کی حمایت
سفیر عاصم افتخار نے اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس کے جلد از جلد انعقاد کی حمایت کی تاکہ اس مقصد کو عملی شکل دی جا سکے۔








