فلسطین میں موت کا رقص جاری، پاکستانی سفیر نے اقوام متحدہ میں حقائق بے نقاب کر دیے
پاکستان کا ردعمل
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے، جو سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 (قابض فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی غیر قانونی بستیوں) کے نفاذ سے متعلق ہے۔ اس رپورٹ میں غزہ میں انسانی تکلیف اور سفاکی کی سطح کو حیران کن اور ناقابل برداشت قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم انگریز کے زمانے کے جیلر ہیں
سیکرٹری جنرل کی تشویش
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سیکرٹری جنرل نے رپورٹ میں بتایا کہ خاندانوں کو بار بار نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ہے اور وہ اب غزہ کی زمین کے پانچویں حصے سے بھی کم جگہ پر محصور ہیں، جبکہ یہ جگہیں بھی خطرے کی زد میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کے کرم میں 2 کامیاب آپریشنز، 23 دہشتگرد ہلاک
بچوں کی حالت زار
سفیر عاصم نے کہا کہ بچے غذائی قلت کے باعث جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں، حالانکہ یونیسیف بار بار خبردار کر چکا ہے کہ غذائی قلت خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ صرف مئی کے مہینے میں چھ ماہ سے پانچ سال کے 5,100 سے زائد بچوں کو شدید غذائی قلت کے علاج کے لیے داخل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: زمبابوے نے سری لنکا کو 67 رنز سے مات دے دی
بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ میں اسرائیل کے جنگی طریقوں اور ہتھکنڈوں پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور مظالم کے فوری احتساب کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس نسیم حسن شاہ نے اسمبلیاں بحال کر دیں لیکن وزیراعظم اسٹیبلشمنٹ کیساتھ چل نہیں سکے،معاہدہ کے تحت صدر اور وزیراعظم مستعفی ہو گئے
نیا امدادی تقسیم نظام
پاکستانی سفیر نے کہا کہ نام نہاد نیا امدادی تقسیم نظام نہ صرف بین الاقوامی انسانی قانون کے منافی ہے بلکہ یہ بھوکے شہریوں کو براہ راست خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 500 سے زائد افراد کو صرف انسانی امداد حاصل کرنے کی کوشش میں قتل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو 26ویں اور 27ویں ترمیم نے استحکام دیا ہے، ملک کو استحکام دینے کے لیے اور ترمیم کرنا پڑی تو کریں گے، طلال چودھری
تشدد کی دیگر شکلیں
تشدد صرف غزہ تک محدود نہیں ہے؛ اسرائیل نے مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں فوجی چھاپوں میں شدت پیدا کی ہے۔ اوچا کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے 19 جون 2025 تک مغربی کنارے میں 949 فلسطینی، جن میں کم از کم 200 بچے شامل ہیں، شہید کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے JF-17C اور C-130 کو RIAT 2025 میں عالمی سطح پر پذیرائی
سلامتی کونسل کا کردار
سفیر عاصم نے خبردار کیا کہ اگر سلامتی کونسل اپنی ہی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی نہ بنائے تو اس کے سنگین نتائج عالمی امن و سلامتی کے لیے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیرداخلہ سے کنٹری ڈائریکٹر ورلڈبینک کی ملاقات، سموگ کے مسئلے پر باہمی تعاون سے قابو پانے پر اتفاق
اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی
یہ سال اقوام متحدہ کے چارٹر کا 80 واں سال ہے جو انصاف، امن اور تمام اقوام کی خودمختاری کے اصولوں پر مبنی ہے۔ مگر غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اس کے بنیادی اصولوں کی مسلسل پامالی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات سے 5 مطلوب اشتہاری گرفتاری کے بعد پاکستان منتقل
اجتماعی عزم کا وقت
سفیر عاصم نے کہا کہ اب وقت ہے کہ مشترکہ عالمی عزم کے تحت مشرق وسطیٰ میں منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی پولیس نے عمران خان کی بہنوں کو تحویل میں لے لیا
فوری اقدامات کی ضرورت
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر غزہ اور مغربی کنارے میں تمام فوجی کارروائیاں بند کرے۔ انسانی امداد پر عائد تمام پابندیاں بھی ختم کی جائیں۔
بین الاقوامی کانفرنس کی حمایت
سفیر عاصم افتخار نے اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس کے جلد از جلد انعقاد کی حمایت کی تاکہ اس مقصد کو عملی شکل دی جا سکے۔








