دریا میں پانی کا بہاؤ کتنا تھا اور الرٹ کب جاری کیا گیا؟ سوات واقعے پر محکمہ آبپاشی کی رپورٹ جاری
سوات دریا میں افسوس ناک واقعہ
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) دریائے سوات میں 27 جون کو سیاحوں کے ساتھ پیش آنے والے افسوس ناک واقعے پر محکمہ آبپاشی نے رپورٹ جاری کردی۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کو بھارت سے سیکھنا چاہیے کہ جنگ کو ختم کیسے کرتے ہیں، بھارتی ایئر چیف کا بیان
بہاؤ میں اچانک اضافہ
نجی ٹی وی جیو نیوز نے رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ 27 جون کو خوازہ خیلہ میں دریا کا بہاؤ چند گھنٹوں میں 6738 سے بڑھ کر 77782 کیوسک ہوا۔ محکمہ آبپاشی نے ریلے سے متعلق وارننگ تمام متعلقہ اداروں کو صبح 8:41 پر جاری کی، ڈی سی سوات، چارسدہ اور نوشہرہ کو بھی پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے صارفین کے تحفظ کے لیے ’’سائبر شیلڈ ‘‘ متعارف کرا دی
معلومات کی بروقت ترسیل
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وٹس ایپ پر تمام حکام کو دریا کے بہاؤ کی مسلسل اپڈیٹس دی گئی، اور 10:30 پر ہی شدید سیلاب کا انتباہ جاری کردیا گیا۔ اس حوالے سے ڈی سی، پی ڈی ایم اے، اے ڈی سی ریلیف اور دیگر اداروں کو کئی بار الرٹ بھیجے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: 60 لوگوں نے مجھے مارا لیکن معاف کرنے کا لفظ بھی میرے منہ سے نہیں نکلا اور آنکھ سے ایک آنسو بھی نہیں گرا
سیاحوں کی جان کی حفاظت
رپورٹ کے مطابق، محکمہ آبپاشی نے بروقت ایمرجنسی کی اطلاع دی، لیکن خوازہ خیلہ میں سیاح معمول کے بہاؤ میں دریا کے بیچ داخل ہو گئے اور پھنس گئے۔ یہ واقعہ شدید بارش کے باعث اچانک پانی کے بہاؤ میں اضافے کی وجہ سے پیش آیا، 2022 کے بعد دریا کے بہاؤ میں مٹی بھر جانے کی وجہ سے سیاح ندی کے اندر تک جا رہے ہیں۔
سفارشات برائے حفاظتی تدابیر
رپورٹ میں ریسکیو 1122 کو فلڈ ریسکیو آلات مہیا کرنے، سیاحتی علاقوں میں داخلہ محدود کرنے، ہوٹل مالکان کو پابند بنانے اور مدین اور کالام میں اضافی ٹیلی میٹری گیجز لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی انتظامیہ کو سیاحوں کو محفوظ مقام تک محدود رکھنے کے لیے پالیسی بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔








