صارم برنی کی درخواست ضمانت پر ایف آئی اے کو 4 جولائی تک جواب داخل کرانے کی مہلت
کراچی کی عدالت میں انسانی سمگلنگ کیس
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی کی ضلعی عدالت نے انسانی سمگلنگ کیس میں نامزد صارم برنی کی درخواست ضمانت پر وفاقی تحقیاتی ادارے کو 4 جولائی تک جواب داخل کرانے کی مہلت دے دی۔ عدالت نے عندیہ دیا کہ جواب جمع نہ کرانے کی صورت میں فیصلہ سنادیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ ایران میں ہتھیاروں کا کئی سال کا ذخیرہ استعمال کرچکا، فنانشل ٹائمز کا دعویٰ
عدالت کی سماعت کے دوران کی پیش رفت
ڈان نیوز کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ ضلع شرقی کی عدالت نے دستاویزات میں ردو بدل اور انسانی سمگلنگ کیس کے ملزم صام برنی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ دوران سماعت، ایف آئی اے نے دلائل کے لیے ایک مرتبہ مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے بار بار مہلت طلب کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر حکومتی ایم پی ایز نے اسمبلی نہیں آنا تو عوام کے ٹیکس کا پیسہ کیوں برباد کیا جا رہا ہے؟ صحافی صدیق جان
وکیل کا موقف
درخواست گزار کے وکیل نے بتایاکہ ان کا موکل ایک سال سے جیل میں ہے، مقدمہ جان بوجھ کر التوا میں ڈالا جا رہا ہے۔ کبھی پراسیکیوٹر غائب ہوتا ہے تو کبھی تفتیشی افسر نہیں آتا۔ وکیل نے کہا کہ ہم نے ایک بار بھی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا نہیں کی، تفتیشی افسر نے چالان پیش کرنے میں تاخیری حربے استعمال کیے۔
یہ بھی پڑھیں: انسداد دہشتگردی عدالت کا پی ٹی آئی رہنماؤں کو 21 مئی تک گرفتار نہ کرنے کا حکم
صارم برنی کی گرفتاری
واضح رہے کہ 5 جون 2024 کو سماجی کارکن صارم برنی کو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے امریکہ سے واپسی پر کراچی ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا تھا۔ ایف آئی اے ذرائع نے بتایا کہ صارم برنی ٹرسٹ کے سربراہ صارم برنی کو کراچی ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا۔
الزامات اور تحقیقات
ذرائع نے بتایا کہ صارم برنی پر انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات ہیں، کافی عرصے سے صارم برنی کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی تھی، انہیں امریکی حکام کی جانب سے انسانی سمگلنگ کے الزام عائد کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔








