ایکسپورٹ فیسلیٹیشن سکیم چوری کا ذریعہ بن گئی، حکومت کو 25 ارب کا نقصان، دوہرا معیار ختم کیا جائے:سلیم ولی محمد
کراچی: ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کا مسئلہ
پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے ایک بار پھر حکومت کی توجہ ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت بغیر ڈیوٹی خام مال درآمد کر کے مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کے مسئلے کی جانب مبذول کروائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرسٹیانو رونالڈو نے 2026 ورلڈ کپ کو اپنے کیریئر کا آخری ایونٹ قرار دے دیا
بغیر ڈیوٹی درآمدات سے نقصانات
انہوں نے نشاندہی کی کہ کیمیکلز اینڈ ڈائز کے چیپٹر 27 سے 32 بالخصوص 3204 کے درآمدی اعداد و شمار کے مطابق، سال 2023 سے 2024 کے دوران اس چیپٹر کے تحت درآمد میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے مقابلے میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر چوری ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستانی وفد نیویارک پہنچ گیا، بھارت کے خلاف مقدمہ پیش کرے گا
حکومت سے مطالبات
سلیم ولی محمد نے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال سے اپیل کی کہ اگر صرف چیپٹر 3204 پر نظر ڈالی جائے تو کسٹم ڈیوٹی تقریباً 6 ارب روپے جبکہ سیلز ٹیکس 18 ارب روپے بنتا ہے، جو مجموعی طور پر 24 سے 25 ارب روپے ہوتا ہے۔ مگر حکومت کو یہ ریونیو بہت کم حاصل ہوا ہے، جو کہ باعث تشویش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: ہندوکش ریجن میں 5.7 شدت کا زلزلہ
ای ایف ایس کے تحت اصلاحات
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ای ایف ایس کے تحت لگائے جانے والے 18 فیصد سیلز ٹیکس یا کسٹم ریبیٹ کی ادائیگی اسی وقت کی جائے جب برآمدکنندگان کی جانب سے فارن ریمیٹنس موصول ہو جائے، تاکہ برآمدکنندگان کو انتظار نہ کرنا پڑے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سے شارجہ جانے والے مسافر سے 670 گرام ہیروئن بھرے کیپسولز برآمد
پابندیاں اور تجاویز
سلیم ولی محمد نے ایک اہم تجویز پیش کی کہ حکومت ای ایف ایس کے تحت درآمدات پر پابندی عائد کرے جب تک کہ برآمدی لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) موجود نہ ہو۔ اس سے اس اسکیم کے غلط استعمال کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان نے یوٹرن لیا، لطیف کھوسہ
ناانصافی کی نشاندہی
چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے صنعتکاروں اور درآمدکنندگان کے درمیان ناانصافی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ درآمدکنندگان تمام ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف کیمیکلز اور ڈائز کے صنعتکار بغیر کسی ٹیکس کے خام مال درآمد کر رہے ہیں، جو کہ ایک بڑی ناانصافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد؛ پی ٹی آئی کے ایم پی اے بشارت ڈوگر کو حراست میں لے لیا گیا
حکومت کی خاموشی اور تجاویز
انہوں نے حکومت سے شکوہ کیا کہ انہوں نے وفاقی بجٹ میں اناملیز کی نشاندہی کرتے ہوئے ای ایف ایس سے متعلق کئی تجاویز ایف بی آر کو ارسال کیں، مگر انہیں کوئی جواب موصل نہیں ہوا۔
نئی پالیسیاں بنانے کی ضرورت
آخر میں، انہوں نے وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ ای ایف ایس کے تحت درآمد شدہ مال کو صرف صنعتی پیداوار تک محدود کیا جائے اور برآمدی ایل سی کے بغیر اس اسکیم کے تحت فری درآمد کی اجازت نہ دی جائے۔








