ہمارے طرف سے، صرف ناں سمجھو

تحریر: رائے حسنین طاہر

یہ بھی پڑھیں: فاٹا کو این ایف سی میں جائز حصہ نہ دینا آئین اور قانون کی واضح خلاف ورزی ہے: تیمور سلیم جھگڑا

نام کی تبدیلی کا اعلان

خبر آئی۔۔۔ پنجاب حکومت نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا نام تبدیل کردیا اور انسٹیٹیوٹ کا نام ’’مریم نواز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو وسکولر ڈیزیزز‘‘ رکھ دیا گیا۔

پنجاب کے وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’نام تبدیل کرنا اسپتال کی ایک علیٰحدہ، خودمختار ادارے کے طور پر نئی شناخت کی عکاسی کرتا ہے‘‘۔

یہ بھی پڑھیں: 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کا فائدہ کس کو ہوا؟

متضاد بیانات

پھر کچھ دیر بعد ایک اور خبر آئی ۔۔۔۔۔۔۔ پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے واضح کردیا کہ جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کا نام تبدیل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے اور اس حوالے سے زیرگردش خبروں کو مسترد کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: سابق مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی بینائی سے متعلقہ بیماری بتادی

سیاسی بونگیاں

’’بونگی‘‘ ہے نا کسی سے بھی ’’وج‘‘ جاتی ہے اور کئی لوگوں سے تو بار بار ’’وجتی‘‘ہے یہ بونگی -

جسکی وجہ سیاسی شعور اور عوامی امنگوں سے نابلد ہونا یا وقت سے پہلے اور اہلیت سے زیادہ ملنا ہوتا ہے کئی مقامات پر یہ دونوں خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہوتی ہیں۔

ایسی بونگیاں اور شہرت کا خناس صرف موجودہ حکومتوں کو ہی نہیں سابقہ ادوار میں بھی دیکھا جاسکتا ہے جماعتیں تبدیلی والی ہوں یا نان تبدیلی والی سیاسی جماعتیں یہ احساسات شدت سے سب ہی میں دیکھنے میں آ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: Muslim Nations Must Step Up in Support of Palestinians Against Israel: Hafiz Naeem

عوام کی خدمت کی بجائے ذاتی تشہیر

کبھی انصاف اور صحت کارڈ کی شکل میں کبھی افتتاحی تختیاں اتارنے اور لگانے کی دوڑ - عوام کے پیسے ان پر خرچ کرنے کی بجائے ذاتی تشہیر۔ عوام کے لئے جینا دوبھر ہو گیا ہے اور سیاسی لیڈروں کے نخرے اور چونچلے ہیں بند ہونے کا نام نہیں لیتے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی غلامی کیخلاف جنگ لڑنیوالے امریکی جھنڈا اٹھا کر آزادی لے رہے ہیں: عظمیٰ بخاری

سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری

کیا ہی اچھا ہو سیاسی جماعتیں ذاتی تشہیر کے مقابلوں کی بجائے عوام کی خدمت کا مقابلہ کریں لیکن پارٹی فنڈ سے عوام کو بھی علم ہو کون سی جماعت اقتدار کی ہوس کے بغیر خالصتاً ان سے محبت کا دم بھرتی ہے کوئی تو ہے جسے عوام کا خیال ہے۔

صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے میں ایک امیدوار کا انتخابی خرچہ تقریباً 10 کروڑ کے قریب رہا تھا جبکہ پاکستان بھر میں اوسطاً 5 مرلہ کا پلاٹ بمعہ بلڈنگ 15000000 میں مل جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس یحییٰ آفریدی نے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھالیا

صحت کی سہولیات میں بہتری

دیگر اخراجات فرنیچر کی مد میں 20 لاکھ اور شامل کر لیں۔ اس 5 مرلہ کی عمارت میں سیاسی جماعتیں سمارٹ کلینک/ آن لائن کلینک بنائیں۔ معمولی فیس رکھیں جس سے ہسپتال کا خرچ اور ڈاکٹرز و پیرا میڈیکس کی تنخواہیں نکل سکیں۔ اس سے بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کا بوجھ بھی کم ہو گا اور عوام کو گھر کی دہلیز پر بنیادی سہولیات بھی مل جائیں گی۔

کیا شہباز شریف، بلاول بھٹو، عمران خان اپنے آئیندہ امیدواروں کو پابند کریں گے کہ ایسے کلینک بناؤ۔۔؟

معیار کو بلند کرنے کی ضرورت

کیا سیاسی جماعتیں ایسے صحت مند مقابلے کریں گی۔۔؟

جانے کیوں یہ جملہ لکھتے ہی کانوں میں شناسا آوازیں آ رہی ہیں ’’ساڈے ولوں ناں ہی سمجھو‘‘ ۔۔۔

نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...