افغان حکومت آنے کے بعد افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا: بلاول بھٹو زرداری
بلاول بھٹو زرداری کا طالبان حکومت سے دوحہ معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے افغانستان کی طالبان حکومت سے دوحہ معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل نے وعدوں کا احترام نہ کیا تو دنیا اسکا محاسبہ اسکے دوستوں کے کردار سے کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نئے سربراہ کا اعلان کر دیا گیا
دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی جنگ
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشت گردوں کیخلاف پاکستان پورے عزم کیساتھ برسر پیکار ہے، دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور پاکستان دہشتگردی کے خلاف ہر اول دستے کا کردار ادا کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے امریکا میں ادویات کی قیمتوں میں کمی کے حکم نامے پر دستخط کردیئے۔
پاکستان کی قربانیاں
انہوں نے کہاکہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 92 ہزار جانوں کی قربانی دی اور ہماری معیشت 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھایا مگر ہم اب بھی لڑرہے ہیں کیونکہ اس کا متبادل سرنڈر ہے اور پاکستان کی ڈکشنری میں سرنڈر کا لفظ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں امریکی صدر کے کوٹ پر لگی جنگی جہاز کی پن والی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل
طالبان حکومت کی ذمہ داریاں
انہوں نے کہاکہ طالبان حکومت کو بہت سوں نے ایک ’ناگزیر حقیقت‘ کے طور پر خوش آمدید کہا، انہوں نے خطے میں استحکام کا وعدہ کیا مگر اس کے بدلے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں میں 40 فیصد اضافے اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، کالعدم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی ایم) سمیت کئی دیگر تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
افغان حکومت سے مطالبات
انہوں نے کہاکہ ہم کابل کو یاد دلاتے ہیں کہ خودمختاری صرف حق نہیں، ایک ذمہ داری بھی ہے، انہوں نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ لڑاکا عناصر کے انخلا کو روکیے، اسلحے کی ترسیل کو بند کیجیے اور دوحہ معاہدے میں خون سے لکھے گئے وعدوں کا احترام کیجیے ورنہ دنیا آپ کا محاسبہ آپ کے دوستوں کے کردار سے کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں حفاظتی تار نہ لگانے والے موٹر سائیکل سواروں کے خلاف مقدمات درج
دہشت گردی کے خلاف جدوجہد
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ ہم نے اپنی آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے دہشتگردی کو شکست دینی ہے، ضرب عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز نے دہشتگردوں کی کمر توڑی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: نجی کمپنی کے مالک نے ساتھی کے ساتھ مل کر ملازم حاملہ خاتون کا گینگ ریپ کیا
مودی سرکار کو پیغام
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے مودی سرکار کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے، دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور کوئی سرحد نہیں ہوتی، بھارت الزام تراشی کے بجائے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی کوششوں کا حصہ بنے، بھارتی قیادت خطے کے امن کے لیے مذاکرات کی میز پر آئے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس کی زیرصدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس آج ہوگا
کشمیر اور پانی کے مسائل
انہوں نے خطے کے امن کے لیے کشمیر جیسے حل طلب مسائل پر مذاکرات ناگزیر قرار دیتے ہوئے بھارت پر پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی روش ترک کرنے پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کر دیا گیا
عالمی برادری سے اپیل
چیئرمین پیپلزپارٹی نے عالمی برادری سے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ دنیا کو پاکستانی فورسز سے دہشت گردی سے نمٹنےکی حکمت عملی سیکھنے کا مشورہ بھی دے دیا۔
ڈیجیٹل پروپیگنڈہ کا چیلنج
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا اور اب بھی ہر اول دستے کا کردار ادا کررہا ہے، چیئرمین پیپلزپارٹی نے ڈیجیٹل پروپیگنڈے کو دنیا کے لیے پیچیدہ چیلنج قرار دے دیا۔








