ججز کی سنیارٹی پر مشاورت کا معاملہ، جسٹس منصور علی شاہ کا جوڈیشل کمیشن کو ایک اور خط
اصولی کیفیت: جسٹس منصور علی شاہ کا خط
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو ایک اور اہم خط ارسال کر دیا ہے جس میں ج Judges کی سنیارٹی کے تعین کے معاملے پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز مری سے واپسی پر فیلڈ ہسپتال دیکھ کر رک گئیں،ادویات کی مفت فراہمی اور ورکنگ کے بارے میں تفصیلات حاصل کیں۔
جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی تیاری
نجی ٹی وی چینل آج نیوز ذرائع کے مطابق یہ خط جسٹس منصور علی شاہ نے گزشتہ روز جوڈیشل کمیشن کے اجلاس سے قبل تحریر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آپ کے بڑے بڑے لیڈران کے کسی دن سارے پیغامات اور وائس نوٹس نکال دیئے تو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی: راجہ عامر شہزاد کی سیاسی کارکنان کو دھمکی
آئینی تقاضوں کا ذکر
خط کے مندرجات کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ج Judges کی سنیارٹی جیسے اہم اور حساس معاملے پر چیف جسٹس یا دیگر متعلقہ حکام سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، جو آئین کے تقاضوں کے برخلاف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے باہر احتجاج: پی ٹی آئی رہنما نعیم حیدر پنجوتھا کی ضمانت کنفرم
صدرِ مملکت کی ذمہ داری
جسٹس منصور نے اپنے خط میں واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت صدرِ مملکت چیف جسٹس سے مشاورت کے پابند تھے، لیکن اس کے برعکس انہوں نے جلدبازی میں ازخود سنیارٹی کا تعین کر لیا۔
انٹرا کورٹ اپیل کا ذکر
خط میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ سنیارٹی کا یہ معاملہ پہلے ہی انٹرا کورٹ اپیل میں زیر التوا ہے، اس لیے اس پر یکطرفہ فیصلہ کرنا مناسب نہیں تھا۔ جسٹس منصور کا کہنا ہے کہ ان کی رائے میں اس اہم معاملے پر باضابطہ مشاورت ناگزیر تھی۔








