ججز کی سنیارٹی پر مشاورت کا معاملہ، جسٹس منصور علی شاہ کا جوڈیشل کمیشن کو ایک اور خط
اصولی کیفیت: جسٹس منصور علی شاہ کا خط
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو ایک اور اہم خط ارسال کر دیا ہے جس میں ج Judges کی سنیارٹی کے تعین کے معاملے پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان 2026 کے ورلڈ کپ میں بھی امریکہ سے شکست سے دوچار ہو گا، محمد آصف کا پرانا بیان ایک بار پھر وائرل
جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی تیاری
نجی ٹی وی چینل آج نیوز ذرائع کے مطابق یہ خط جسٹس منصور علی شاہ نے گزشتہ روز جوڈیشل کمیشن کے اجلاس سے قبل تحریر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں دی پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن (ترمیمی) بل 2025 منظور کر لیا گیا
آئینی تقاضوں کا ذکر
خط کے مندرجات کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ج Judges کی سنیارٹی جیسے اہم اور حساس معاملے پر چیف جسٹس یا دیگر متعلقہ حکام سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، جو آئین کے تقاضوں کے برخلاف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرنیشنل لیڈرز فورم کے زیرِاہتمام طلباء کے لئے تقریب کا انعقاد
صدرِ مملکت کی ذمہ داری
جسٹس منصور نے اپنے خط میں واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت صدرِ مملکت چیف جسٹس سے مشاورت کے پابند تھے، لیکن اس کے برعکس انہوں نے جلدبازی میں ازخود سنیارٹی کا تعین کر لیا۔
انٹرا کورٹ اپیل کا ذکر
خط میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ سنیارٹی کا یہ معاملہ پہلے ہی انٹرا کورٹ اپیل میں زیر التوا ہے، اس لیے اس پر یکطرفہ فیصلہ کرنا مناسب نہیں تھا۔ جسٹس منصور کا کہنا ہے کہ ان کی رائے میں اس اہم معاملے پر باضابطہ مشاورت ناگزیر تھی۔








