سوات میں سیاحوں کو بروقت ریسکیو کیوں نہیں کیا گیا؟ پشاور ہائی کورٹ
پشاور ہائیکورٹ میں سماعت
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پشاور ہائیکورٹ نے دریائے سوات میں سیاحوں کے جاں بحق ہونے سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران کمشنر مالاکنڈ، ہزارہ، کوہاٹ، ڈی آئی خان اور دیگر متعلقہ افسران کو طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی تاجر اتحاد کے زیر اہتمام پری بجٹ سیمینار 15مئی کو ہوگا، ماہرین تجاویز دیں گے
چیف جسٹس کا اظہارِ تشویش
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کے نامزد چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس فہیم ولی نے درخواست پر سماعت کے دوران کہا کہ کمشنر مالاکنڈ اور دیگر متعلقہ افسران ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: کرپشن نے ہر شے کو تہس نہس کر دیا ہے اور ابھی بھی کسی کو اس کا ادراک نہیں،کرپشن کو تحفظ دیتے دیتے ہم نے ملک کو ہی داؤ پر لگا دیا
سیاحوں کی حفاظت کے سوالات
چیف جسٹس نے کہا کہ غفلت کے باعث 17 جانیں ضائع ہوئیں، سیاحوں کو بروقت کیوں ریسکیو نہیں کیا گیا؟ سیاحوں کی حفاظت کیلئے اقدامات کیوں نہیں کئے گئے؟ سیاحوں کو ڈرون کے ذریعے حفاظتی جیکٹس کیوں نہیں دی گئیں؟ دریا اور سیاحتی مقامات کی دیکھ بھال کس کی ذمے داری ہے؟
یہ بھی پڑھیں: زرمبادلہ کے ذخائر میں بڑا اضافہ
حکومتی کارروائیوں کا جائزہ
ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ سوات میں تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، ایئر ایمبولینس موجود تھی مگر وقت کم ہونے کے باعث استعمال نہ ہو سکی۔
اگلی سماعت کی تاریخ
چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جاری وارننگ پر متعلقہ حکام نے عملدرآمد کیوں نہیں کیا؟ بعدازاں عدالت نے آئندہ سماعت پر سوات واقعے سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔








