امریکی حملے سے فردو جوہری تنصیب کو شدید نقصان پہنچا: ایرانی وزیر خارجہ کی تصدیق
ایران کی جوہری تنصیب کو نقصان
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کو شدید اور سنگین نقصان پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے پاکستان میں مہنگائی میں مسلسل کمی کی پیشگوئی کردی
امریکی حملے کی تفصیلات
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم اس نقصان کا مکمل تخمینہ لگا رہی ہے، جس کی رپورٹ جلد ایرانی حکومت کو پیش کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کا سینٹ الیکشن میں 243 ووٹ حاصل کرنے پر اظہار تشکر۔ حافظ عبد الکریم کو مبارکباد، اتحادیوں کا شکریہ
حملوں کی تاریخ
یاد رہے کہ امریکہ نے 22 جون کو ایران کی تین جوہری تنصیبات — فردو، نطنز اور اصفہان — پر فضائی حملے کیے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ان تنصیبات کو کامیابی سے تباہ کیا گیا ہے، خاص طور پر فردو تنصیب کو مکمل طور پر غیر فعال کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، وزیراعظم شہبازشریف کا ارکان اسمبلی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ
انٹیلی جنس جائزے
تاہم امریکی میڈیا میں شائع رپورٹس کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس جائزوں میں کہا گیا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملوں سے ایران کے بنیادی نیوکلیئر مواد کو مکمل نقصان نہیں پہنچا۔
IAEA کے ساتھ تعاون میں خلل
اس حوالے سے ایران نے تاحال IAEA (بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی) کو کسی بین الاقوامی معائنے کی اجازت نہیں دی، اور حال ہی میں ایران نے ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کا باضابطہ اعلان بھی کیا ہے۔








