نظام کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہو گیا تو ۔۔۔ ؟
تحریر
رائے حسنین
یہ بھی پڑھیں: امریکی بیڑا ایرانی میزائلوں کی رینج میں آئے گا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، ایرانی بحریہ کے کمانڈر شہرام ایرانی
سیاسی منظر نامہ
حالات کی کروٹ تو اس وقت سیاسی منظر نامی پر سب کو نظر آ رہی ہے اور یوں لگتا ہے اسٹیبلشمنٹ دوسرے مرحلے میں کوئی legitimate سیٹ اپ بنانے کا پروگرام رکھتی ہے۔ جبکہ ’’صاحب‘‘ کے دورۂ امریکہ کے بعد پروگرام پر عمل کا آغاز ہوگیا۔ لگتا ہے چوھدری نثار سے شہباز کی ملاقات کو مذاکرات کا ابتدائیہ کہا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 103 فلسطینی شہید
پی ٹی آئی کے مطالبات
لیکن چند ہی گھنٹوں بعد لاہور سے پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں کا پارٹی کے وائس چیئرین سمیت ایک مطالبات سے بھرپور خط منظر عام پر آتا ہے۔ اس میں بھی اصل نکتہ بانی پی ٹی آئی کو سیاسی لوگوں سے مذاکرات پر زور تھا۔ پھر آج پی ٹی آئی کے اسد قیصر کی جانب سے قومی حکومت کے مطالبے کے ساتھ مذاکرات کی میں شمولیت کی حامی بھی بھر لی گئی۔ اسد قیصر پی ٹی آئی کے معتدل مزاج سیاستدان تصور کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایس سی او سمٹ، روشن مستقبل کی طرف پیش رفت
مستقبل کے امکانات
اب کیا ہوگا؟ کیا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ قومی حکومت کے مطالبے کو مان جائیں گے؟ کیا قومی حکومت کے قیام سے ملکی سیاسی معاشی نظام اور عام آدمی کو فرق پڑے گا؟ سیاسی پنڈت کہتے ہیں کہ حکومت بھی مان جائے، اگر نظام کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہو تو۔
یہ بھی پڑھیں: سفاک ملزم نے اپنے کزن کے قتل کے بعد مقتول کا انگوٹھا کاٹ کر اے ٹی ایم سے دس لاکھ روپے نکلوا لیے
قومی حکومت کے فوائد
قومی حکومت بننا ملک کے لئے انتہائی فائدہ مند ہو گا۔ سیاسی استحکام آئے گا، اسمبلیوں کے اندر ’’عضوِ معطل‘‘ پی ٹی آئی جس کا کام فی الحال chaos پیدا کرنے ہی ہے، وہ بھی ریاست کے لیے کام کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلی سہیل آفریدی کا این اے 18 ہری پور ضمنی انتخابات کی انکوائری کا فیصلہ، پارٹی کو اختیار دیدیا
پی ٹی آئی کے فائدے
جہاں اسکا فائدہ پی ٹی آئی کو ہوگا کہ قومی دھارے میں شامل ہو کر اپنے منشور کو کسی نہ کسی حد تک آگے بڑھا پائے گی، وہاں حکومتی اتحاد اس سے بہت فائدہ اٹھا سکے گا۔ مہنگائی اور دیگر ریاستی امور پر سے تنقید کا سامنا کم کرنا پڑے گا، کیونکہ اب تو چور حلال ہو گئے ہیں انکے ساتھ مل کر کام کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اس معروف کرکٹر نے مجھ سے میری تصاویر مانگیں اور ۔۔۔’’اداکارہ عنایا خان کا حیران کن انکشاف
بین الاقوامی ڈیلز
ریاست کو یہ بھی فائدہ ہوگا کہ اہم بین الاقوامی ڈیلز بغیر کسی تنقید کے شروع و مکمل ہو سکیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی فیس 10 لاکھ روپے کرنے کے دعووں پر “بھائیو، کبھی پڑھ بھی لیا کرو” کا مشورہ
عمران خان کا کردار
مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان قومی حکومت کو تسلیم کریں گے؟ اسکا جواب مشکل ہے، لیکن یہ طے ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر سے مذاکرات کے لیے ایک بڑا گروپ تیار ہے۔ اگر عمران نہ مانے تو پھر پی ٹی آئی ایک الگ دھڑا کھل کر سامنے آ جائے گا اور خان صاحب ہٹ دھرمی کی سزا بھگتتے رہیں گے۔
خلاصہ
سوال یہ بھی ہے کہ کیا عمران کو مائنس کر کے اور پی ٹی کے اہم دھڑے کو الگ کر کے اسٹیبلشمنٹ legitimate اور قابل قبول حکومت بنا پائے گی؟ کیا عوام بالخصوص پی ٹی آئی کے سپورٹرز کے لیے ایسا نظام قابل قبول ہو گا؟
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








