نظام کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہو گیا تو ۔۔۔ ؟
تحریر
رائے حسنین
یہ بھی پڑھیں: سابق پاکستانی کھلاڑی نے سلمان آغا کے رن آؤٹ کو درست قرار دے دیا
سیاسی منظر نامہ
حالات کی کروٹ تو اس وقت سیاسی منظر نامی پر سب کو نظر آ رہی ہے اور یوں لگتا ہے اسٹیبلشمنٹ دوسرے مرحلے میں کوئی legitimate سیٹ اپ بنانے کا پروگرام رکھتی ہے۔ جبکہ ’’صاحب‘‘ کے دورۂ امریکہ کے بعد پروگرام پر عمل کا آغاز ہوگیا۔ لگتا ہے چوھدری نثار سے شہباز کی ملاقات کو مذاکرات کا ابتدائیہ کہا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 70 فیصد جرائم کم ہو گئے، سی سی ڈی اور ٹیم کو شاباش، متحرک گینگز کی گرفتاری کی: آئی جی پنجاب
پی ٹی آئی کے مطالبات
لیکن چند ہی گھنٹوں بعد لاہور سے پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں کا پارٹی کے وائس چیئرین سمیت ایک مطالبات سے بھرپور خط منظر عام پر آتا ہے۔ اس میں بھی اصل نکتہ بانی پی ٹی آئی کو سیاسی لوگوں سے مذاکرات پر زور تھا۔ پھر آج پی ٹی آئی کے اسد قیصر کی جانب سے قومی حکومت کے مطالبے کے ساتھ مذاکرات کی میں شمولیت کی حامی بھی بھر لی گئی۔ اسد قیصر پی ٹی آئی کے معتدل مزاج سیاستدان تصور کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کہاں ہیں ۔۔؟ جانیے
مستقبل کے امکانات
اب کیا ہوگا؟ کیا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ قومی حکومت کے مطالبے کو مان جائیں گے؟ کیا قومی حکومت کے قیام سے ملکی سیاسی معاشی نظام اور عام آدمی کو فرق پڑے گا؟ سیاسی پنڈت کہتے ہیں کہ حکومت بھی مان جائے، اگر نظام کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہو تو۔
یہ بھی پڑھیں: شاہینوں نے 5 جہاز گرادیئے، اب سوگ میں بھارت کو پائلٹ نہیں مل رہے۔
قومی حکومت کے فوائد
قومی حکومت بننا ملک کے لئے انتہائی فائدہ مند ہو گا۔ سیاسی استحکام آئے گا، اسمبلیوں کے اندر ’’عضوِ معطل‘‘ پی ٹی آئی جس کا کام فی الحال chaos پیدا کرنے ہی ہے، وہ بھی ریاست کے لیے کام کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور بورڈ نے انٹرمیڈیٹ سالانہ امتحانات کیلئے داخلہ جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کر دی
پی ٹی آئی کے فائدے
جہاں اسکا فائدہ پی ٹی آئی کو ہوگا کہ قومی دھارے میں شامل ہو کر اپنے منشور کو کسی نہ کسی حد تک آگے بڑھا پائے گی، وہاں حکومتی اتحاد اس سے بہت فائدہ اٹھا سکے گا۔ مہنگائی اور دیگر ریاستی امور پر سے تنقید کا سامنا کم کرنا پڑے گا، کیونکہ اب تو چور حلال ہو گئے ہیں انکے ساتھ مل کر کام کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کا موبائل فون کی لائٹ میں آپریشن کی خبر پر نوٹس، فوری رپورٹ طلب کر لی
بین الاقوامی ڈیلز
ریاست کو یہ بھی فائدہ ہوگا کہ اہم بین الاقوامی ڈیلز بغیر کسی تنقید کے شروع و مکمل ہو سکیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: 180 یوم میں 10 ہزار مریضوں کو فری میڈیسن کی فراہمی کا ریکارڈ قائم
عمران خان کا کردار
مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان قومی حکومت کو تسلیم کریں گے؟ اسکا جواب مشکل ہے، لیکن یہ طے ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر سے مذاکرات کے لیے ایک بڑا گروپ تیار ہے۔ اگر عمران نہ مانے تو پھر پی ٹی آئی ایک الگ دھڑا کھل کر سامنے آ جائے گا اور خان صاحب ہٹ دھرمی کی سزا بھگتتے رہیں گے۔
خلاصہ
سوال یہ بھی ہے کہ کیا عمران کو مائنس کر کے اور پی ٹی کے اہم دھڑے کو الگ کر کے اسٹیبلشمنٹ legitimate اور قابل قبول حکومت بنا پائے گی؟ کیا عوام بالخصوص پی ٹی آئی کے سپورٹرز کے لیے ایسا نظام قابل قبول ہو گا؟
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








