نظام کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہو گیا تو ۔۔۔ ؟

تحریر

رائے حسنین

یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کو لوٹنے والے کشتی مالکان کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

سیاسی منظر نامہ

حالات کی کروٹ تو اس وقت سیاسی منظر نامی پر سب کو نظر آ رہی ہے اور یوں لگتا ہے اسٹیبلشمنٹ دوسرے مرحلے میں کوئی legitimate سیٹ اپ بنانے کا پروگرام رکھتی ہے۔ جبکہ ’’صاحب‘‘ کے دورۂ امریکہ کے بعد پروگرام پر عمل کا آغاز ہوگیا۔ لگتا ہے چوھدری نثار سے شہباز کی ملاقات کو مذاکرات کا ابتدائیہ کہا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب اور کے پی کے میں تنخواہوں میں کتنے اضافے کا امکان ہے؟ بڑا دعویٰ سامنے آ گیا

پی ٹی آئی کے مطالبات

لیکن چند ہی گھنٹوں بعد لاہور سے پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں کا پارٹی کے وائس چیئرین سمیت ایک مطالبات سے بھرپور خط منظر عام پر آتا ہے۔ اس میں بھی اصل نکتہ بانی پی ٹی آئی کو سیاسی لوگوں سے مذاکرات پر زور تھا۔ پھر آج پی ٹی آئی کے اسد قیصر کی جانب سے قومی حکومت کے مطالبے کے ساتھ مذاکرات کی میں شمولیت کی حامی بھی بھر لی گئی۔ اسد قیصر پی ٹی آئی کے معتدل مزاج سیاستدان تصور کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کسانوں پر زرعی ٹیکس، سپیکر پنجاب اسمبلی کا برہمی کا اظہار

مستقبل کے امکانات

اب کیا ہوگا؟ کیا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ قومی حکومت کے مطالبے کو مان جائیں گے؟ کیا قومی حکومت کے قیام سے ملکی سیاسی معاشی نظام اور عام آدمی کو فرق پڑے گا؟ سیاسی پنڈت کہتے ہیں کہ حکومت بھی مان جائے، اگر نظام کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہو تو۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کا سعودی عرب کے مسافروں کے لیے 50 فیصد رعایت کا اعلان

قومی حکومت کے فوائد

قومی حکومت بننا ملک کے لئے انتہائی فائدہ مند ہو گا۔ سیاسی استحکام آئے گا، اسمبلیوں کے اندر ’’عضوِ معطل‘‘ پی ٹی آئی جس کا کام فی الحال chaos پیدا کرنے ہی ہے، وہ بھی ریاست کے لیے کام کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کی درخواست، پاکستان طالبان سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامند

پی ٹی آئی کے فائدے

جہاں اسکا فائدہ پی ٹی آئی کو ہوگا کہ قومی دھارے میں شامل ہو کر اپنے منشور کو کسی نہ کسی حد تک آگے بڑھا پائے گی، وہاں حکومتی اتحاد اس سے بہت فائدہ اٹھا سکے گا۔ مہنگائی اور دیگر ریاستی امور پر سے تنقید کا سامنا کم کرنا پڑے گا، کیونکہ اب تو چور حلال ہو گئے ہیں انکے ساتھ مل کر کام کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قطر سے واپسی پر وہاب علی کی ہلاکت پر کرم میں احتجاج جاری: “میں مسافر ہوں اور راستہ کھلنے کا انتظار کر رہا ہوں”

بین الاقوامی ڈیلز

ریاست کو یہ بھی فائدہ ہوگا کہ اہم بین الاقوامی ڈیلز بغیر کسی تنقید کے شروع و مکمل ہو سکیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی عمران خان کو دھوکا دینے کا سوچ بھی نہیں سکتیں: مریم وٹو

عمران خان کا کردار

مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان قومی حکومت کو تسلیم کریں گے؟ اسکا جواب مشکل ہے، لیکن یہ طے ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر سے مذاکرات کے لیے ایک بڑا گروپ تیار ہے۔ اگر عمران نہ مانے تو پھر پی ٹی آئی ایک الگ دھڑا کھل کر سامنے آ جائے گا اور خان صاحب ہٹ دھرمی کی سزا بھگتتے رہیں گے۔

خلاصہ

سوال یہ بھی ہے کہ کیا عمران کو مائنس کر کے اور پی ٹی کے اہم دھڑے کو الگ کر کے اسٹیبلشمنٹ legitimate اور قابل قبول حکومت بنا پائے گی؟ کیا عوام بالخصوص پی ٹی آئی کے سپورٹرز کے لیے ایسا نظام قابل قبول ہو گا؟

نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...