خودداری کا مزا خود دار ہی جانتے ہیں
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 217
یہ بھی پڑھیں: مشہور نعت خواں عبدالرؤف روفی کا منشیات اور پتنگ بازی کے حوالے سے فیصل آباد ریجن کے عوام کے نام ویڈیو پیغام سامنے آ گیا
ڈاکٹر اسماعیل کا تعارف
ڈاکٹر اسماعیل ڈینٹل سرجن، ہنس مکھ اور بیڈ منٹن کے عمدہ کھلاڑی تھے۔ ان کے پاس کوئی بھی "داڑھ" کے درد کے ساتھ جاتا تو یہ ایک ہی "ڈائیلاگ" بولتے، "اس داڑھ نوں رکھن دا کوئی فائدہ نہیں البتہ کڈ دیں دے سو ان۔" یہ بولا اور داڑھ او گئی۔ میری بیگم کی 2 داڑھیں بھی انہوں نے یہی ڈائیلاگ بول کر نکال دی تھیں۔ وہ بہت اچھے دوست تھے۔ برسوں بیت گئے، ان سے رابطہ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل پہلی بار پشاور میں ہونے جا رہا ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل تاج محمد خان کا کرکٹ شائقین کے لیے بڑا اعلان
مشتاق رانجھا
مشتاق رانجھا سوشل ویلفئیر افسر تھے۔ ہنس مکھ مگر سست۔
یہ بھی پڑھیں: 1971ء میں پاکستان کا دولخت ہونا اتنا بڑا سانحہ ہے جسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا اور محبان پاکستان کے دلوں میں یہ اتنا بڑا زخم ہے جسے مندمل کرنا دشوار ہے۔
ڈاکٹر بنکش
ڈاکٹر بنکش سول ہسپتال کے ڈاکٹر اور زندہ دل انسان تھے۔ وہ ہمیشہ مروت سے ملتے تھے۔ جب چاہو ان سے چھٹی کے لئے میڈیکل سرٹیفیکیٹ بنوا لو۔ بہت سال بیت گئے، ان سے رابطہ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: محمد بن سلمان حج انتظامات کی نگرانی کیلئے منیٰ پہنچ گئے
ڈاکٹر خضر حیات
ڈاکٹر خضر حیات بھی سول اسپتال کے ڈاکٹر تھے۔ خوش پوش، ان کے خاندان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا اور اُن کے بڑے بھائی چوہدری لیاقت ضلع کونسل گجرات کے رکن تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے یکم جنوری سے غیرملکی کرنسی کی خرید و فروخت کے لیے بڑی شرط عائد کردی
چوہدری محمد انور
چوہدری محمد انور، منڈی بہاؤالدین کے رہائشی، تحصیل سپورٹس افسر تھے۔ بھلے مانس، یار بادشاہ، مخلص اور سادہ دیہاتی شخص تھے۔ میری اُن سے جلد ہی اچھی یاد اللہ ہو گئی۔ یہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے گورنمنٹ کالج میں ہم جماعت اور دوست تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی سرحد غیر قانونی طور پر پار کرنے کی کوشش میں 6 افغان ہلاک، متعدد زخمی
نواز شریف کے ساتھ تعلقات
چوہدری محمد انور بتایا کرتے تھے، "میں چھٹی والے دن نواز کے گھر چلا جاتا اور سارا دن اس کے ساتھ گزار کر واپس ہوسٹل چلا آتا۔ میری نواز سے آخری ملاقات جہلم ایک جلسہ میں ہوئی۔" نواز شریف نے انہیں سٹیج پر بلا کر پوچھا، "تیریے لئے کیا کروں؟" میں نے جواب دیا، "اللہ تجھے خوش رکھے، تو نے اتنے لوگوں میں پہچان کر میری عزت افزائی کی ہے۔ یہی میرا لئے کافی ہے۔" خودداری کا مزا خود دار ہی جانتے ہیں دوستو۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ن) پرتگال کے زیرِ اہتمام پاکستانی کمیونٹی کے اعزاز میں افطار ڈنر، پاکستان اور امتِ مسلمہ کی سلامتی کیلئے خصوصی دعا
ڈاکٹر عامر احمد
کھاریاں جوائن کیا تو اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) ملک امجد تھے۔ ایک روز وزیر قانون چوہدری محمد فاروق اچانک کھاریاں آئے۔ ملک امجد ننگے پاؤں باہر آئے اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ دنوں بعد ان کا تبادلہ ہو گیا تھا اور ان کی جگہ ڈاکٹر عامر احمد اے سی کھاریاں تعینات ہوئے۔ یہ نمازی، تہجد گزار شخص تھے جو عدالت میں زیادہ وقت گزارتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: شہری علاقوں میں دہشتگردی کا بہت جلد خاتمہ ہوجائے گا،مذاکرات کیلئے ریاست اور حکومت کے دروازے کھلے ہیں: سرفرازبگٹی
ڈاکٹر عامر احمد کے کارنامے
ڈاکٹر عامر احمد نے آٹھ نو ماہ میں سات آٹھ ہزار مقدمات کا فیصلہ کیا۔ لوگوں نے انہیں دعائیں دیں اور وہ ان کے فیصلے حق و انصاف کی ہر کسوٹی پر پورا اترتے تھے۔ کسی بھی سیاسی شخص نے انہیں کسی مقدمے میں سفارش نہیں کی اور وہ ہمیشہ اس سے انکار کرتے رہے۔
اختتامیہ
یہ کہانی ابھی جاری ہے۔
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








