خودداری کا مزا خود دار ہی جانتے ہیں

مصنف کی معلومات

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 217

یہ بھی پڑھیں: عمر ایوب اور زرتاج گل اشتہاری قرار، جائیدادیں بھی ضبط کرنے کا حکم

ڈاکٹر اسماعیل کا تعارف

ڈاکٹر اسماعیل ڈینٹل سرجن، ہنس مکھ اور بیڈ منٹن کے عمدہ کھلاڑی تھے۔ ان کے پاس کوئی بھی "داڑھ" کے درد کے ساتھ جاتا تو یہ ایک ہی "ڈائیلاگ" بولتے، "اس داڑھ نوں رکھن دا کوئی فائدہ نہیں البتہ کڈ دیں دے سو ان۔" یہ بولا اور داڑھ او گئی۔ میری بیگم کی 2 داڑھیں بھی انہوں نے یہی ڈائیلاگ بول کر نکال دی تھیں۔ وہ بہت اچھے دوست تھے۔ برسوں بیت گئے، ان سے رابطہ نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: انجینئرنگ کا کیڑا اسے چین نہیں لینے دیتا تھا، وہ میری ناتجربہ کاری سے فائدہ اٹھانے میں اب تک ناکام رہا، سخت الفاظ میں بات کی تو منہ سے جھاگ نکلنے لگی

مشتاق رانجھا

مشتاق رانجھا سوشل ویلفئیر افسر تھے۔ ہنس مکھ مگر سست۔

یہ بھی پڑھیں: گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کی نظر میں کیوں اہم ہیں؟

ڈاکٹر بنکش

ڈاکٹر بنکش سول ہسپتال کے ڈاکٹر اور زندہ دل انسان تھے۔ وہ ہمیشہ مروت سے ملتے تھے۔ جب چاہو ان سے چھٹی کے لئے میڈیکل سرٹیفیکیٹ بنوا لو۔ بہت سال بیت گئے، ان سے رابطہ نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ: نیپال کی ویسٹ انڈیز کے خلاف بیٹنگ جاری

ڈاکٹر خضر حیات

ڈاکٹر خضر حیات بھی سول اسپتال کے ڈاکٹر تھے۔ خوش پوش، ان کے خاندان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا اور اُن کے بڑے بھائی چوہدری لیاقت ضلع کونسل گجرات کے رکن تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ہرجانہ ادا کیا جائے، مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں دی جائیں کہ آئندہ جارحیت نہیں کی جائے گی: صدر ایران مسعود پزشکیان

چوہدری محمد انور

چوہدری محمد انور، منڈی بہاؤالدین کے رہائشی، تحصیل سپورٹس افسر تھے۔ بھلے مانس، یار بادشاہ، مخلص اور سادہ دیہاتی شخص تھے۔ میری اُن سے جلد ہی اچھی یاد اللہ ہو گئی۔ یہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے گورنمنٹ کالج میں ہم جماعت اور دوست تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کیرن کا سیاحتی شعبہ، جہاں سیاحوں کی آمد نے زندگی بحال کر دی ہے

نواز شریف کے ساتھ تعلقات

چوہدری محمد انور بتایا کرتے تھے، "میں چھٹی والے دن نواز کے گھر چلا جاتا اور سارا دن اس کے ساتھ گزار کر واپس ہوسٹل چلا آتا۔ میری نواز سے آخری ملاقات جہلم ایک جلسہ میں ہوئی۔" نواز شریف نے انہیں سٹیج پر بلا کر پوچھا، "تیریے لئے کیا کروں؟" میں نے جواب دیا، "اللہ تجھے خوش رکھے، تو نے اتنے لوگوں میں پہچان کر میری عزت افزائی کی ہے۔ یہی میرا لئے کافی ہے۔" خودداری کا مزا خود دار ہی جانتے ہیں دوستو۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ نے علی امین گنڈاپور کو 40 روزہ حفاظتی ضمانت دیدی

ڈاکٹر عامر احمد

کھاریاں جوائن کیا تو اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) ملک امجد تھے۔ ایک روز وزیر قانون چوہدری محمد فاروق اچانک کھاریاں آئے۔ ملک امجد ننگے پاؤں باہر آئے اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ دنوں بعد ان کا تبادلہ ہو گیا تھا اور ان کی جگہ ڈاکٹر عامر احمد اے سی کھاریاں تعینات ہوئے۔ یہ نمازی، تہجد گزار شخص تھے جو عدالت میں زیادہ وقت گزارتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بخطرناک گینک کیساتھ کام کرنیوالی ’لیڈی ڈان‘ گرفتار کرلی گئی

ڈاکٹر عامر احمد کے کارنامے

ڈاکٹر عامر احمد نے آٹھ نو ماہ میں سات آٹھ ہزار مقدمات کا فیصلہ کیا۔ لوگوں نے انہیں دعائیں دیں اور وہ ان کے فیصلے حق و انصاف کی ہر کسوٹی پر پورا اترتے تھے۔ کسی بھی سیاسی شخص نے انہیں کسی مقدمے میں سفارش نہیں کی اور وہ ہمیشہ اس سے انکار کرتے رہے۔

اختتامیہ

یہ کہانی ابھی جاری ہے۔
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...