پارٹی کو تجویز دی ہے کہ حکومت میں شامل ہوں یا الگ ہوکر عوام میں جائیں ، یوسف رضا گیلانی
سیاسی حکمت عملی پر بات چیت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنما اور چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پارٹی کو تجویز دی ہے کہ حکومت میں شامل ہوں یا الگ ہوکر عوام میں جائیں مگر یہ فیصلہ سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی ہی کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محافظ ہی شہریوں کو اغوا کرنے لگے، پنجاب پولیس کے 2 اہلکاروں کے خلاف مقدمہ
قانون سازی کے حوالے سے خیالات
ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رُخ’ میں میزبانی نادر گرامی سے گفتگو کرتے ہوئے، دباؤ کے تحت قانون سازی سے متعلق سوال کے جواب میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ کوئی رضاکارانہ طور پر اگر اپنی وفاداری تبدیل کرنا چاہے تو یہ اس کی اپنی صوابدید ہے۔ تاہم، پارٹی سربراہان کے پاس اتنے وسیع اختیارات ہیں کہ اگر کسی مخصوص معاملے پر کوئی رکن ووٹ نہیں دیتا تو وہ ممبر نہیں رہ سکتا۔ اس لیے جو دباؤ والی بات ہے، اس سے میں اتفاق نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا جلالپور پیر والا فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ، خواتین کو دلاسہ دیا، بچوں سے اظہار شفقت، ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی کھایا
ماضی کے انتخابات پر تبصرہ
گذشتہ انتخابات کے حوالے سے سوال پر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جس نے جیتنا ہو وہ جیت سکتے ہیں، اور جس نے ہارنا ہو وہ ہار جاتا ہے۔ مگر اس معاملے پر میں کمنٹ اس لیے نہیں کر سکتا اور آپ کو بھی نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آپ کا اصلی وجود، دوسروں کی آراء اور نظریات کا مرہون منت ہے لیکن یہ بھی ضروری اور سچ نہیں کہ آپ ان آراء اور نظریات کو زندگی بھر اپنائے رکھیں
مخصوص نشستوں کی تشریح
مخصوص نشستوں کی تشریح سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے، چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ دیکھیے، ان سے غلطی ہوئی کہ انہوں نے الیکشن جو لڑا وہ کسی اور جماعت سے لڑا۔ جب پاکستان پیپلز پارٹی پر قدغن لگائی گئی تو قانونی ماہرین کے مشورے پر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین بنائی گئی۔ اس وقت عمران خان کو کوئی درست مشورہ نہیں دیا گیا۔
موجودہ سیکیورٹی صورتحال
موجودہ نظام کی نوعیت کے حوالے سے سوال کے جواب میں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دراصل اب یہ سیکیورٹی اسٹیٹ ہے۔ ہماری مشرقی اور مغربی سرحد پر اس وقت بہت زیادہ تناؤ ہے، اور عالمی حالات بھی اتنے سازگار نہیں ہیں۔ اس لیے اب اداروں پر تنقید کے بجائے مل کر اس صورتحال کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ جب آپ نے مل کر مقابلہ کیا تو پھر آپ نے نتائج بھی دیکھے۔







