لاہور میں جرائم کی شرح میں 49 فیصد کمی ہوئی، پولیس کا دعویٰ
لاہور میں جرائم کی شرح میں کمی
لاہور (ویب ڈیسک) لاہور پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر میں جرائم کی شرح میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کسی کو پسند آئے نہ آئے گرین لینڈ ہم لے کر رہیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
سنگین جرائم میں کمی کی تفصیلات
پولیس ریکارڈ کے مطابق رواں سال پہلے 6 ماہ کےدوران سنگین جرائم میں 49 فیصد کمی آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ تعلیم (پیکٹا) کی 4 روزہ انٹرنیشنل ورکشاپ ختم، بین الاقوامی ماہرین تعلیم کی شرکت، گلوبل سٹیزن شپ ان ایجوکیشن پر ٹریننگ دی۔
رپورٹ کردہ جرائم کی تعداد
پولیس ہیلپ لائن ون فائیو کی کالز اور مقدمات کے ریکارڈ کے مطابق 2024 کی نسبت رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 12ہزار484 سنگین جرائم رپورٹ ہوئے، راہزنی میں 69 فیصد، دورانِ ڈکیتی قتل میں 60 فیصد اور گھر ڈکیتیوں میں 52 فیصد کمی ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے ایل او سی پر ’جاسوسی‘ کے الزام میں کبوتر کو گرفتار کر لیا
چوری کی وارداتوں میں کمی
رپورٹ کے مطابق موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں 2024 کی نسبت 36 فیصد، گاڑی چوری کی وارداتوں میں 44 فیصد، گاڑی چھیننے کی وارداتوں میں 71 فیصد اور موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتوں میں 61 فیصد کمی ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: آپ نے ڈونلڈ ٹرمپ کا پوڈل (کتے کی ایک نسل) بن کر کتنا لطف اٹھایا؟ممبرپارلیمنٹ زاراسلطانہ کا برطانوی وزیراعظم سے سوال
پولیس کی محنت کا اعتراف
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ پولیس فورس کی انتھک محنت، سفارشی کلچر کے خاتمے اور وسائل کے مؤثر استعمال سے جرائم میں کمی ممکن ہوئی، سیف سٹی اتھارٹی نے بھی جرائم کنٹرول کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ امن و امان کی صورتحال
پولیس حکام کے مطابق جرائم میں کمی کے مستند ڈیٹا کی بدولت پر لاہور میں امن و امان کی اچھی صورتحال کو عالمی سطح پربھی تسلیم کیا گیا ہے۔








