خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث برفانی جھیل کے پھٹنے کے خطرات بڑھ گئے: پی ڈی ایم اے
پی ڈی ایم اے کی جانب سے اہم انتباہ
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا کی پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ صوبے کے برفانی علاقوں میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں برفانی جھیل کے پھٹنے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم اور مولانا فضل الرحمان کا کردار، عمران خان کا ردعمل بھی آگیا
برفانی جھیل کے پھٹنے کی وضاحت
ڈان کے مطابق برفانی جھیل کے پھٹنے کا مطلب یہ ہے کہ جب جھیل اچانک پھٹ جاتی ہے، جس سے بہنے والا پانی اور مٹی نیچے کی وادیوں میں تباہی پھیلاتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسانی جانیں، املاک، اور مقامی لوگوں کی روزگار متاثر ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کا چٹاگانگ میں انڈین اکنامک زون منصوبہ منسوخ کرنے کا اعلان
عوامی حفاظتی تدابیر
وزارت موسمیاتی تبدیلی کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں 7 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد اس خطرے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کی جانب سے آج جاری کردہ ہدایت نامے میں بتایا گیا ہے کہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ برف کے تیزی سے پگھلنے اور اچانک سیلاب آنے کے امکانات کو بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک سے پہلے ٹماٹر، پیاز، لہسن اور چینی سمیت 12 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ
علاقائی انتباہات
چترال، دیر، سوات اور کوہستان کے رہائشیوں کو ممکنہ برفانی جھیلوں کے پھٹنے کے بارے میں خبردار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو حساس علاقوں کی نگرانی، بروقت اطلاع رسانی اور انخلا کی مشقوں کو یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے شرمناک جرم میں ملوث غیر ملکی خاتون گرفتار
احتیاطی تدابیر
پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب غیر ضروری آمدورفت سے گریز کرنے اور تیز بہتے پانی میں گاڑیاں لے جانے سے منع کیا ہے۔ سیاحوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے شہریوں کے لیے مفت سولر سکیم کا آغاز کردیا
نقل مکانی اور امدادی اقدامات
ادارے کا کہنا ہے کہ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں نقل مکانی کے لیے مقامات قائم کیے گئے ہیں اور امدادی اداروں کو ہنگامی سازوسامان کے ساتھ تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی نے بجٹ مسترد کردیا، احتجاج کا اعلان
سڑکوں کی بحالی
محکمہ شاہرات، سرحدی تعمیراتی ادارے اور تعمیرات و مواصلات کے محکمے کو سڑکوں کی بروقت بحالی کے لیے پیشگی اقدامات کرنے اور چوکنا رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی جانب سے ایشیا کپ کیلئے ہاکی ٹیم کو بھارنے نہ بھیجنے امکان
ہنگامی اقدامات
پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری اقدام اٹھانے کی ہدایت کی ہے، اور عوام کو ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لیے آگاہی مہم بھی شروع کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیک چینل مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کون کر رہا ہے ، کیا تحریک انصاف کو کسی رعایت یا ڈیل کی پیشکش کی گئی۔۔؟ انصار عباسی نے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے
ہنگامی مرکز کی فعال حالت
ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ادارے کا ہنگامی مرکز مکمل طور پر فعال ہے، عوام مزید معلومات کے لیے 1700 پر رابطہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: جنسی تشدد: ہمیں خاموش تماشائی نہیں، متاثرین کی آواز بننا چاہیے، کامران ٹیسوری
جانی نقصان اور خطرات
یہ ہدایت نامہ اس وقت جاری کیا گیا ہے جب این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ایک ہفتے کے دوران 64 افراد جاں بحق اور 117 زخمی ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ جانی نقصان خیبرپختونخوا میں ہوا، جہاں 10 بچوں سمیت 23 افراد جاں بحق ہوئے، گزشتہ ہفتے وادی سوات میں اچانک آنے والے سیلاب میں 14 افراد بہہ گئے تھے۔
موسمی حالات
محکمہ موسمیات کے مطابق خطے کے بیشتر حصوں میں مرطوب ہوائیں داخل ہو رہی ہیں جو آئندہ چند روز میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی نالوں کی نگرانی جاری رکھیں، تاکہ پانی کے بہاؤ میں خلل نہ آئے اور شہری سیلاب کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔








