وزیراعلیٰ پنجاب کا ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن کے ایم ایس کیخلاف سخت ایکشن، گرفتار کرنے کا حکم
وزیراعلیٰ پنجاب کا دورہ پاکپتن
پاکپتن (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گذشتہ ماہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال پاکپتن میں 20 بچوں کی اموات کے بعد آج ہسپتال کا دورہ کیا۔ انہوں نے سی او ہیلتھ پاکپتن اور ایم ایس ڈاکٹر عدنان غفار کے خلاف مجرمانہ غفلت کے تحت مقدمہ درج کرنے اور گرفتار کرنے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ؛ فلسطین ایکشن گروپ کے 20 سے زائد کارکن گرفتار
ہسپتال میں بد نظمی اور شکایات
وزیراعلیٰ مریم نواز نے ڈان نیوز کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن پہنچنے پر مریضوں اور اہل خانہ کی جانب سے بد نظمی، غفلت اور مختلف شکایات کا سامنا کیا۔ انہوں نے اس پر سخت ایکشن لیتے ہوئے سی او ہیلتھ اور ایم ایس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی، بھاری جرمانہ ہوگا
نئے ایم ایس کی تعیناتی
وزیراعلیٰ نے ساہیوال سے نئے ایم ایس کو ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن تعینات کرنے کا حکم بھی دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی سیاسی میدان میں نئی انٹری؛ الیکشن کمیشن نے نئی جماعت رجسٹر کرلی
پارکنگ فیس اور اوور چارجنگ کی شکایات
مریضوں اور ان کے اہل خانہ نے پارکنگ فیس میں اوور چارجنگ کی شکایات بھی کی جس پر وزیراعلیٰ نے پارکنگ کمپنی کے مالک اور انچارج کی گرفتاری کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: 14 کیسز میں بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہوں، سیاسی حالات خراب ہوتے جارہے ہیں: شیخ رشید
پرائیویٹ لیب کے خلاف کارروائیاں
وزیراعلیٰ نے پرائیویٹ لیب سے ملی بھگت کرنے پر تین لیب ٹیکنیشنز کو فارغ کیا اور دوائیوں کی فراہمی میں بے قاعدگی پر تین پرائیویٹ لیب بھی بند کرنے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جھلار سے اٹک کی طرف جاتے ہوئے کالا چٹا نام کا پہاڑی سلسلہ آتا ہے، گاڑی 7 سرنگوں میں سے گزرتی ہے، ان سرنگوں کو ”سیون سسٹرز“ کہا جانے لگا۔
فری دوائیوں کا مسئلہ
وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہسپتال میں فری دوائیوں کی عدم دستیابی پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ 100 ارب روپے دوائیوں کے لیے فراہم کیے گئے ہیں، پھر بھی عوام کو دوائیاں کیوں نہیں مل رہیں؟
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے صارفین کے تحفظ کے لیے ’’سائبر شیلڈ ‘‘ متعارف کرا دی
ہسپتال کی صورتحال کا جائزہ
وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہسپتال کے مختلف وارڈز، اسٹور اور لیب کا معائنہ کیا اور مریضوں سے فرداً فرداً حال دریافت کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں روپے کا سامان استعمال میں نہیں لایا جا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: منگھوپیر میں کرنٹ لگنے سے 2 گدھے مرگئے
تحقیقات کی ضرورت
انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایم ایس اپنی انتظامی ذمہ داریاں مناسب طریقے سے ادا نہیں کر رہے، جبکہ کنسلٹنٹ ڈاکٹروں کی دیکھ بھال کے لیے وقت نہیں دیا جا رہا۔
نظام کی بہتری کے اقدامات
وزیراعلیٰ نے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے دوران ڈیوٹی موبائل استعمال پر پابندی عائد کرنے کی ہدایت کی، اور ہسپتالوں میں رابطوں کے لیے پیجر سسٹم نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔








