جنرل کیانی اور جنرل پاشا نے چیتے کو میدان میں اتارا تاکہ شیر اور ہاتھی کے معاہدے کو چیلنج کرکے انہیں فارغ کر دے: سہیل وڑائچ
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا ماحول
لاہور (ویب ڈیسک) اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ایک بار پھر رابطے اور مذاکرات شروع ہونے کا ماحول بن رہا ہے اور اس صورتحال میں سینئر کالم نویس سہیل وڑائچ نے بھی اپنا قلم اٹھایا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟
شیر کی کہانی
روزنامہ جنگ کے لیے انہوں نے لکھا کہ شیر کی کچھار الگ ہے اور چیتے کی شکار گاہ الگ۔ شیر بوڑھا ہو گیا ہے اور جنگل کے لیے بہت کچھ کرنے کے باوجود وہ تاریخ میں جتنا بڑا نام پیدا کرنا چاہتا تھا، وہ جنگل کی اندرونی سیاست کی وجہ سے نہیں کر سکا۔ وہ ہند اور سندھ کے جنگلوں میں امن قائم کرکے تاریخ بنانا چاہتا تھا، جنرل مشرف اور جنرل راحیل شریف آڑے آگئے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخواہ میں 12 سالہ بچے کا زیادتی کے بعد قتل، قریبی رشتہ دار گرفتار
مصلحت کی کوششیں
پپلیے ہاتھی کے ساتھ معاہدہ کرکے وہ میثاق جمہوریت کے ذریعے جمہوری نظام کو مضبوط تر کرنا چاہتا تھا۔ تب جنرل کیانی اور جنرل پاشا نے چیتے کو میدان میں اتارا تاکہ شیر اور ہاتھی کے معاہدے کو چیلنج کرکے انہیں فارغ کر دے۔ اگرچہ بوڑھے شیر کے خاندان کو اقتدار تو ملا ہوا ہے مگر اپنے خواب پورے نہ ہوپانے کی اُسے کسک تو ضرور ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے ایٹمی توانائی ایجنسی کی رپورٹ کو سیاسی اور جانبدار قرار دیدیا
شیر اور چیتے کی پیچیدگیاں
اب وہ جنگل کی روزمرہ سیاست سے الگ تھلگ خاندانی معاملات اور وراثتی ملکیت کو سنبھالنے اور اگلی نسل کے حوالے کرنے میں مصروف ہے مگر پھر بھی اس کے چہرے پر صاف لکھا نظر آتا ہے کہ اس کے خواب ادھورے رہ چکے ہیں۔ شیر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جب کسی سے ناراض ہو جائے تو آسانی سے دل میں ڈالی گرہ کھولتا نہیں۔ وہ بہت تجربہ کار ہے، مگر اسے علم ہے کہ اس کے خاندان کو ہائبرڈ نظام میں جو حصہ ملا ہے وہ ناپائیدار ہے۔ جنگل کے عوام سے ووٹ لئے گئے تو شیر گروپ اکثریت حاصل نہیں کر سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی پی ورلڈ کے وفد کا ایس آئی ایف سی کا دورہ، مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی کا اظہار
چیتے کے قدموں میں شیر کی زوال
چیتا شیر کا پرانا واقف ہے، کرکٹ کے دِنوں سے شیر اور چیتے کا رابطہ تھا۔ چیتا، جنرل ضیاء الحق کا لاڈلا کرکٹر تھا اور شیر اس کا لاڈلا سیاستدان۔ بینظیر بھٹو کا مخالف ہونا بھی دونوں میں قدرِ مشترک تھی۔ مگر دائیں بازو کی مقتدرہ نے چیتے میں اتنی ہوا بھردی کہ اسے شیر، بکری لگنا شروع ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیب نے 6 ماہ کے دوران 547 ارب روپے سے زائد رقوم کی ریکارڈ ریکوری کرلی
مفاہمت کی پیچیدہ صورت حال
فرض کریں شیر، اسیر چیتے کو ملنے بھی چلا جاتا ہے تو کیا ہوگا؟ تخت ایک ہے اور اس کے دعویدار دو؟ چیتا خواہش مند ہے کہ وہ صرف نظام کے ببّر شیر سے مذاکرات اور ڈیل کرے جبکہ ببّر شیر فی الحال اس پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ اگرچہ مذاکرات کی کوششیں جاری رہتی ہیں لیکن ان کے نتائج کے حوالے سے شکوک و شبہات برقرار رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 1600 روپے کا اضافہ
آنے والی چیلنجز اور ممکنہ راستے
ممکنہ عقلی راستہ صرف ایک ہے جس سے جنگل میں سیاسی امن و مفاہمت کا ماحول پیدا ہوسکتا ہے مگر وہ راستہ ابھی نہیں کھلے گا۔ اس وقت یہ کام بہت آسان ہوگا جب چیتے کی جماعت سیاسی جنگ میں ہار کر تھک جائے گی۔ یہ قومی حکومت دو سال بعد منصفانہ انتخابات کروائے گی، اور اس کے استحکام کا راز مقتدرہ کی مکمل حمایت میں ہے۔
ضمیمہ
اگر یہ واحد مفاہمتی راستہ نہیں نکلتا تو نہ شیر جیل جائے گا، نہ چیتے سے ملاقات ہوگی، نہ مفاہمت کا در کھلے گا اور نہ ساکن سیاست متحرک ہوسکے گی۔








