غزہ منصوبہ اجلاس؛ اسرائیلی آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان شدید تلخ کلامی اور جھگڑا
غزہ سے متعلق فوجی حکمتِ عملی پر جھگڑا
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر کے درمیان غزہ سے متعلق آئندہ کی فوجی حکمتِ عملی پر ایک بند کمرہ اجلاس میں جھگڑے اور تلخ کلامی کی اطلاعات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میانوالی میں بیٹی کی پیدائش پر ناخوش والدین نے بچی کو قتل کردیا
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز نے اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ شب سیکیورٹی حکام اور اعلیٰ وزرا کے اجلاس کے دوران اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے آرمی چیف کو ہدایت دی کہ وہ غزہ کے بیشتر شہریوں کی جنوبی غزہ جبری منتقلی کا منصوبہ تیار کریں۔
یہ بھی پڑھیں: جڑانوالہ، این اے 96میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی،مختلف پولنگ سٹیشن پر ووٹرز کی ووٹ کاسٹ کرنے کی ویڈیوز منظر عام پر آ گئیں
وزیراعظم کا مؤقف
جس پر جنرل ایال زامیر نے جواب دیا کہ "کیا آپ وہاں فوجی حکومت چاہتے ہیں؟ دو ملین لوگوں پر کون حکومت کرے گا؟" اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مبینہ طور پر غصے میں چیختے ہوئے جواب دیا کہ "ہماری فوج اور ریاستِ اسرائیل۔"
یہ بھی پڑھیں: قومی یکجہتی، سلامتی، استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، چاہے ایسے عناصر سیاسی ہوں یا کوئی بھی، کور کمانڈر کانفرنس
فوجی حکومت کا امکان
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ "میں وہاں فوجی حکومت نہیں چاہتا لیکن میں کسی بھی صورت حماس کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔ میں یہ ہرگز قبول نہیں کروں گا۔"
یہ بھی پڑھیں: ڈی سی سیالکوٹ نے سیلاب متاثرہ 26 سرکاری اسکولز میں 11 اور 12 ستمبر کو تعطیل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا
غزہ پر کنٹرول اور یرغمالی
اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم کا مؤقف تھا کہ "اگر فلسطینیوں کو جنوبی غزہ میں نہیں دھکیلا گیا تو پھر ہمیں پورے غزہ پر قابض ہونا پڑے گا اور اس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں اب تک فوجی کارروائی یرغمالیوں کو نقصان کے خدشے کی وجہ سے نہیں کی گئی۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ "اگر انخلا کا منصوبہ نہ بنایا گیا تو ہمیں پورے غزہ پر قبضہ کرنا ہوگا، جس کا مطلب ہوگا یرغمالیوں کی ہلاکت میں ڈالنا اور میں یہ نہیں چاہتا، نہ ہی میں اس پر تیار ہوں۔"
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج کی تیاریاں عروج پر، جوان قربانی دینے کو تیار، جنگی مشقوں میں چھوٹے بڑے جدید ہتھیاروں سمیت ٹینکوں، توپ خانہ اور انفنٹری شامل
آرمی چیف کی تنبیہ
اس کے جواب میں آرمی چیف زامیر نے خبردار کیا کہ "ہمیں اس پر مزید بات کرنی ہوگی، اس پر کوئی اتفاق نہیں ہوا۔ اگر ہم بھوکے، غصے سے بھرے لوگوں پر قابو پانے کی کوشش کریں گے تو صورتحال ہاتھ سے نکل سکتی ہے اور وہ اسرائیلی فوج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوسکتے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: جعلی فون کال نے بھارت کے مندر میں جاری شادی رکوا دی، دلہا اور دلہن گرفتار
نیتن یاہو کا حکم
تاہم نیتن یاہو اپنے آرمی چیف سے اختلاف کرتے ہوئے حکم دیا کہ "انخلا کا منصوبہ تیار کرو، میں جب امریکہ سے واپس آؤں تو وہ منصوبہ میرے سامنے ہونا چاہیے۔"
پچھلے الزامات
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اسرائیلی وزرا الزام عائد کرچکے ہیں کہ آرمی چیف حکومت کو غزہ میں ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دے رہے ہیں، جو کہ ناقابل عمل ہے۔








