غزہ منصوبہ اجلاس؛ اسرائیلی آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان شدید تلخ کلامی اور جھگڑا
غزہ سے متعلق فوجی حکمتِ عملی پر جھگڑا
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر کے درمیان غزہ سے متعلق آئندہ کی فوجی حکمتِ عملی پر ایک بند کمرہ اجلاس میں جھگڑے اور تلخ کلامی کی اطلاعات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی سالمیت کے سامنے کوئی لیڈر نہیں، بانی پی ٹی آئی کو جیل برداشت نہیں ہو رہی: حنیف عباسی
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز نے اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ شب سیکیورٹی حکام اور اعلیٰ وزرا کے اجلاس کے دوران اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے آرمی چیف کو ہدایت دی کہ وہ غزہ کے بیشتر شہریوں کی جنوبی غزہ جبری منتقلی کا منصوبہ تیار کریں۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری، حکومت نے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولائز کرنے کے لیے جامع پلان تیار کر لیا
وزیراعظم کا مؤقف
جس پر جنرل ایال زامیر نے جواب دیا کہ "کیا آپ وہاں فوجی حکومت چاہتے ہیں؟ دو ملین لوگوں پر کون حکومت کرے گا؟" اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مبینہ طور پر غصے میں چیختے ہوئے جواب دیا کہ "ہماری فوج اور ریاستِ اسرائیل۔"
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ نے یوٹیلٹی اسٹورز کو تحلیل کرنے اور خصوصی اقتصادی زونز قانون 2012 میں ترمیم کی منظوری دے دی۔
فوجی حکومت کا امکان
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ "میں وہاں فوجی حکومت نہیں چاہتا لیکن میں کسی بھی صورت حماس کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔ میں یہ ہرگز قبول نہیں کروں گا۔"
یہ بھی پڑھیں: ثانیہ زہرا قتل کیس، مقتولہ کے شوہر کو سزائے موت سنادی گئی۔
غزہ پر کنٹرول اور یرغمالی
اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم کا مؤقف تھا کہ "اگر فلسطینیوں کو جنوبی غزہ میں نہیں دھکیلا گیا تو پھر ہمیں پورے غزہ پر قابض ہونا پڑے گا اور اس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں اب تک فوجی کارروائی یرغمالیوں کو نقصان کے خدشے کی وجہ سے نہیں کی گئی۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ "اگر انخلا کا منصوبہ نہ بنایا گیا تو ہمیں پورے غزہ پر قبضہ کرنا ہوگا، جس کا مطلب ہوگا یرغمالیوں کی ہلاکت میں ڈالنا اور میں یہ نہیں چاہتا، نہ ہی میں اس پر تیار ہوں۔"
یہ بھی پڑھیں: کراچی ایئر پورٹ دھماکے کی تفتیش میں بڑی پیشرفت، خاتون سمیت دو افراد گرفتار
آرمی چیف کی تنبیہ
اس کے جواب میں آرمی چیف زامیر نے خبردار کیا کہ "ہمیں اس پر مزید بات کرنی ہوگی، اس پر کوئی اتفاق نہیں ہوا۔ اگر ہم بھوکے، غصے سے بھرے لوگوں پر قابو پانے کی کوشش کریں گے تو صورتحال ہاتھ سے نکل سکتی ہے اور وہ اسرائیلی فوج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوسکتے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (پیر) کا دن کیسا رہے گا؟
نیتن یاہو کا حکم
تاہم نیتن یاہو اپنے آرمی چیف سے اختلاف کرتے ہوئے حکم دیا کہ "انخلا کا منصوبہ تیار کرو، میں جب امریکہ سے واپس آؤں تو وہ منصوبہ میرے سامنے ہونا چاہیے۔"
پچھلے الزامات
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اسرائیلی وزرا الزام عائد کرچکے ہیں کہ آرمی چیف حکومت کو غزہ میں ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دے رہے ہیں، جو کہ ناقابل عمل ہے۔








