ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کوئی تحقیقی منصوبہ شامل نہ ہونے کے باعث عملی طور پر ’غیر فعال‘

پارک کی غیر فعال حیثیت

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پارک) عملی طور پر غیر فعال ہو چکی ہے، کیونکہ 26-2025 کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں ایک بھی تحقیقی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انسٹا پر 14 ملین فالورز رکھنے والی ایشوریا کس ایک شخصیت کو فالو کرتی ہیں؟

زرعی تحقیق میں رکاوٹیں

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی، زراعت کو اولین ترجیح دینے کے بار بار حکومتی دعوؤں کے باوجود نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (نارک) میں تحقیقی کام اب ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موسم کے حوالے سے اہم پیشگوئی سامنے آ گئی

جنوبی کوریا کا تعاون

پارک مالی سال 2026 میں جنوبی کوریا کے تعاون سے آلو کے تصدیق شدہ بیج کی پیداوار کے صرف ایک پروجیکٹ پر کام کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: 1. دو دہائیوں کی رفاقت میں کبھی غلط بیانی کی نہ جھوٹ بولا، کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کے درخواست کی کاپی دیتے کہا ”اکیلے میں راجہ صاحب کو دینا“

جاری منصوبوں کی معطلی

سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے دو جاری منصوبوں کو معطل کر دیا ہے جن میں ایک دالوں کی پیداوار بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنا اور دوسرا گلگت بلتستان میں ماؤنٹین ریسرچ سینٹر کو اپ گریڈ کرنا شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نااہلی، غفلت اور بدانتظامی پر سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ کے خلاف ایکشن

نئی سکیموں کی عدم شمولیت

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ایک سینئر عہدیدار کی جانب سے شیئر کی گئی معلومات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ وزارت کے تحت پانچ نئی سکیمیں پی ایس ڈی پی میں شامل کی گئی ہیں، ان میں سے کوئی بھی پارک سے متعلق نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عدالتی رپورٹنگ پر پیمرا کی پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

پارک کے چیئرمین کا بیان

رابطہ کرنے پر پارک کے چیئرمین ڈاکٹر غلام محمد علی نے تصدیق کی کہ منظور شدہ سکیموں میں 26-2025 کے دوران نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں تحقیقی سرگرمیاں شامل نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں الیکٹرک کاروں کی اسمبلی شروع، مگر چیلنجز برقرار: سیرس تھری کی تیاری میں مشکلات کی وجوہات کیا ہیں؟

ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قیام

ان پانچ منصوبوں میں سے ایک وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کا حلقہ شیخوپورہ میں ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے قیام سے متعلق ہے۔ وزارت نے گندم کی پٹی اور باسمتی چاول کے برآمدی زون میں واقع کثیر الضابطہ زرعی تحقیقی ادارے کے لیے پانچ سال کے لیے 380 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: میں نے 150 مردوں کے ساتھ جسمانی تعلق بنایا — آدمی کا مذہبی گرو کے سامنے شرمناک اعتراف

بجٹ میں کمی

وزارت غذائی تحفظ کے سیکرٹری وسیم اجمل چوہدری نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو اپنی ذمہ داریوں کے تحت عائد کردہ مالیاتی رکاوٹوں کی وجہ سے وزارت کا ترقیاتی بجٹ 24 ارب روپے سے کم کر کے 4.7 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف منصوبہ بند پروجیکٹس میں کمی واقع ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپر سکسز میں عباس آفریدی کے ایک اوور میں 6 چھکے، ویڈیو وائرل

کمیشن کا اظہار تشویش

کمیٹی نے وزارت کے ساتھ پہلے سے زیر بحث اور سفارش کردہ متعدد سکیموں کے اخراج پر تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر خیرپور میں مجوزہ ڈیٹس ریسرچ سینٹر کے اخراج پر۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 1100 پوائنٹس سے زائد اضافہ

دیگر منظور شدہ منصوبے

شیخوپورہ پروجیکٹ کے علاوہ، وزارت نے پاکستان نیشنل شوگر اینڈ شوگر کین مانیٹرنگ سسٹم، پائیدار زرعی کاروبار اور آبی زراعت کی ترقی کے لیے مالی ترغیبی پروگرام، پاکستان میں کپاس کی بحالی اور پاک سرزمین کارڈ پروجیکٹ کی منظوری دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کسی بھی جماعت پر پابندی کی حمایت نہیں کرتی اور نہ ہی کسی کو غدار سمجھتی ہے تاہم پی ٹی آئی کو اپنی سیاست پر نظرثانی کرنا ہوگی، شرجیل انعام میمن

پارک کا قیام

پارک کا قیام 1981 میں دیگر وفاقی اور صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر تحقیق کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا تھا جبکہ نارک اس کے اہم تحقیقی بازو کے طور پر کام کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے این ایف کی ملک گیر کارروائیاں : 251 کلو منشیات برآمد،12 ملزمان گرفتار

منصوبوں کا جائزہ

سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پارک انتظامیہ نے 26-2025 کے لیے پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کے لیے 15 منصوبوں کو حتمی شکل دی تھی۔ تاہم وزارت غذائی تحفظ نے ابتدائی طور پر ان میں سے 7 کو شارٹ لسٹ کیا، لیکن آخر کار ان سب کو چھوڑ دیا، جن کی لاگت کا تخمینہ 24 ارب روپے سے زیادہ تھا۔

انڈوومنٹ فنڈ کی تجویز

وزارت غذائی تحفظ نے زرعی تحقیق کے فروغ کے لیے 10 ارب روپے کی سیڈ منی کے ساتھ انڈوومنٹ فنڈ بنانے کی تجویز کو مسترد کیا۔ زراعت میں تحقیق و ترقی کو مالی وسائل کی کمی اور بے ترتیب فنڈنگ ​​کی وجہ سے رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...