ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کوئی تحقیقی منصوبہ شامل نہ ہونے کے باعث عملی طور پر ’غیر فعال‘
پارک کی غیر فعال حیثیت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پارک) عملی طور پر غیر فعال ہو چکی ہے، کیونکہ 26-2025 کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں ایک بھی تحقیقی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں پینے کے صاف پانی کے پراجیکٹ شروع کرنے کا اعلان کر دیا
زرعی تحقیق میں رکاوٹیں
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی، زراعت کو اولین ترجیح دینے کے بار بار حکومتی دعوؤں کے باوجود نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (نارک) میں تحقیقی کام اب ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مقبرہ جہانگیر کو براہ راست روڈ سے منسلک کرنے کے لیے پل بنانے کا فیصلہ، والڈ سٹی سے بجلی اور دیگر تاروں کو ہٹانے کے لیے فوری اقدامات کا حکم
جنوبی کوریا کا تعاون
پارک مالی سال 2026 میں جنوبی کوریا کے تعاون سے آلو کے تصدیق شدہ بیج کی پیداوار کے صرف ایک پروجیکٹ پر کام کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے طلاق یافتہ بیٹی کو پنشن دینے سے متعلق فیصلہ جاری کر دیا
جاری منصوبوں کی معطلی
سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے دو جاری منصوبوں کو معطل کر دیا ہے جن میں ایک دالوں کی پیداوار بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنا اور دوسرا گلگت بلتستان میں ماؤنٹین ریسرچ سینٹر کو اپ گریڈ کرنا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جب متھن چکروتی نے سوشمینا سین کو نامناسب انداز میں چھوا
نئی سکیموں کی عدم شمولیت
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ایک سینئر عہدیدار کی جانب سے شیئر کی گئی معلومات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ وزارت کے تحت پانچ نئی سکیمیں پی ایس ڈی پی میں شامل کی گئی ہیں، ان میں سے کوئی بھی پارک سے متعلق نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زمین دار نے کھیت میں داخل ہونے پر بکریوں کے ساتھ کیا کیا؟ افسوسناک انکشاف
پارک کے چیئرمین کا بیان
رابطہ کرنے پر پارک کے چیئرمین ڈاکٹر غلام محمد علی نے تصدیق کی کہ منظور شدہ سکیموں میں 26-2025 کے دوران نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں تحقیقی سرگرمیاں شامل نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کی چین اور افغان ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق
ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قیام
ان پانچ منصوبوں میں سے ایک وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کا حلقہ شیخوپورہ میں ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے قیام سے متعلق ہے۔ وزارت نے گندم کی پٹی اور باسمتی چاول کے برآمدی زون میں واقع کثیر الضابطہ زرعی تحقیقی ادارے کے لیے پانچ سال کے لیے 380 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے: ترجمان دفتر خارجہ
بجٹ میں کمی
وزارت غذائی تحفظ کے سیکرٹری وسیم اجمل چوہدری نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو اپنی ذمہ داریوں کے تحت عائد کردہ مالیاتی رکاوٹوں کی وجہ سے وزارت کا ترقیاتی بجٹ 24 ارب روپے سے کم کر کے 4.7 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف منصوبہ بند پروجیکٹس میں کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے بلٹ ٹرین اور ایئر لائن چلانے کا اعلان کردیا، 4 طیارے لیز پر لیں گے: عظمی بخاری
کمیشن کا اظہار تشویش
کمیٹی نے وزارت کے ساتھ پہلے سے زیر بحث اور سفارش کردہ متعدد سکیموں کے اخراج پر تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر خیرپور میں مجوزہ ڈیٹس ریسرچ سینٹر کے اخراج پر۔
یہ بھی پڑھیں: 200 خواتین کے لیے مفت موبائل فون، 12 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپ طلباء کو فراہم کیے: وفاقی وزیر شہزہ فاطمہ
دیگر منظور شدہ منصوبے
شیخوپورہ پروجیکٹ کے علاوہ، وزارت نے پاکستان نیشنل شوگر اینڈ شوگر کین مانیٹرنگ سسٹم، پائیدار زرعی کاروبار اور آبی زراعت کی ترقی کے لیے مالی ترغیبی پروگرام، پاکستان میں کپاس کی بحالی اور پاک سرزمین کارڈ پروجیکٹ کی منظوری دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: آج جب پوری قوم اپنے دفاع، اتحاداور استقامت کا جشن منا رہی ہے: سی ای او لیسکو
پارک کا قیام
پارک کا قیام 1981 میں دیگر وفاقی اور صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر تحقیق کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا تھا جبکہ نارک اس کے اہم تحقیقی بازو کے طور پر کام کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی سہیل سسٹرز نے کامن ویلتھ پاور لفٹنگ چیمپئن شپ میں گولڈ، سلور اور برانز میڈل جیتے
منصوبوں کا جائزہ
سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پارک انتظامیہ نے 26-2025 کے لیے پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کے لیے 15 منصوبوں کو حتمی شکل دی تھی۔ تاہم وزارت غذائی تحفظ نے ابتدائی طور پر ان میں سے 7 کو شارٹ لسٹ کیا، لیکن آخر کار ان سب کو چھوڑ دیا، جن کی لاگت کا تخمینہ 24 ارب روپے سے زیادہ تھا۔
انڈوومنٹ فنڈ کی تجویز
وزارت غذائی تحفظ نے زرعی تحقیق کے فروغ کے لیے 10 ارب روپے کی سیڈ منی کے ساتھ انڈوومنٹ فنڈ بنانے کی تجویز کو مسترد کیا۔ زراعت میں تحقیق و ترقی کو مالی وسائل کی کمی اور بے ترتیب فنڈنگ کی وجہ سے رکاوٹوں کا سامنا ہے۔








