ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کوئی تحقیقی منصوبہ شامل نہ ہونے کے باعث عملی طور پر ’غیر فعال‘
پارک کی غیر فعال حیثیت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پارک) عملی طور پر غیر فعال ہو چکی ہے، کیونکہ 26-2025 کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں ایک بھی تحقیقی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا کرم میں 7 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر بہادر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
زرعی تحقیق میں رکاوٹیں
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی، زراعت کو اولین ترجیح دینے کے بار بار حکومتی دعوؤں کے باوجود نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (نارک) میں تحقیقی کام اب ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: سرکاری ملازمین کے پروموشن سے متعلق کیس میں بڑا فیصلہ
جنوبی کوریا کا تعاون
پارک مالی سال 2026 میں جنوبی کوریا کے تعاون سے آلو کے تصدیق شدہ بیج کی پیداوار کے صرف ایک پروجیکٹ پر کام کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی کامیابی پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا بیان بھی آگیا
جاری منصوبوں کی معطلی
سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے دو جاری منصوبوں کو معطل کر دیا ہے جن میں ایک دالوں کی پیداوار بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنا اور دوسرا گلگت بلتستان میں ماؤنٹین ریسرچ سینٹر کو اپ گریڈ کرنا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شجاعت ہاشمی کی فنی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا: عظمیٰ بخاری
نئی سکیموں کی عدم شمولیت
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ایک سینئر عہدیدار کی جانب سے شیئر کی گئی معلومات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ وزارت کے تحت پانچ نئی سکیمیں پی ایس ڈی پی میں شامل کی گئی ہیں، ان میں سے کوئی بھی پارک سے متعلق نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹن بیبر کو کیا ہوا؟ تصویر سامنے آنے پر مداحوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی
پارک کے چیئرمین کا بیان
رابطہ کرنے پر پارک کے چیئرمین ڈاکٹر غلام محمد علی نے تصدیق کی کہ منظور شدہ سکیموں میں 26-2025 کے دوران نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں تحقیقی سرگرمیاں شامل نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے سمیت قیمتی دھاتوں کی درآمد و برآمد پر 60 دن کیلئے پابند
ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قیام
ان پانچ منصوبوں میں سے ایک وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کا حلقہ شیخوپورہ میں ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے قیام سے متعلق ہے۔ وزارت نے گندم کی پٹی اور باسمتی چاول کے برآمدی زون میں واقع کثیر الضابطہ زرعی تحقیقی ادارے کے لیے پانچ سال کے لیے 380 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی ہدایت پر سپریم کورٹ کا ججز روسٹر جاری
بجٹ میں کمی
وزارت غذائی تحفظ کے سیکرٹری وسیم اجمل چوہدری نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو اپنی ذمہ داریوں کے تحت عائد کردہ مالیاتی رکاوٹوں کی وجہ سے وزارت کا ترقیاتی بجٹ 24 ارب روپے سے کم کر کے 4.7 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف منصوبہ بند پروجیکٹس میں کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کے بلوں سے پی ٹی وی فیس ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا، نجی نیوز چینل کا دعویٰ
کمیشن کا اظہار تشویش
کمیٹی نے وزارت کے ساتھ پہلے سے زیر بحث اور سفارش کردہ متعدد سکیموں کے اخراج پر تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر خیرپور میں مجوزہ ڈیٹس ریسرچ سینٹر کے اخراج پر۔
یہ بھی پڑھیں: پچھلے انتخابات میں باپ پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست داخل کی تھی، اس لیے ہم نے بعد میں فہرست داخل کی، سلمان اکرم راجہ
دیگر منظور شدہ منصوبے
شیخوپورہ پروجیکٹ کے علاوہ، وزارت نے پاکستان نیشنل شوگر اینڈ شوگر کین مانیٹرنگ سسٹم، پائیدار زرعی کاروبار اور آبی زراعت کی ترقی کے لیے مالی ترغیبی پروگرام، پاکستان میں کپاس کی بحالی اور پاک سرزمین کارڈ پروجیکٹ کی منظوری دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: توانائی بحران؛ 15 اپریل تک تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کی سفارش
پارک کا قیام
پارک کا قیام 1981 میں دیگر وفاقی اور صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر تحقیق کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا تھا جبکہ نارک اس کے اہم تحقیقی بازو کے طور پر کام کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی دفاعی جریدے نے پاکستان فضائیہ کی برتری تسلیم کر لی، بھارت کو بڑا جھٹکا
منصوبوں کا جائزہ
سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پارک انتظامیہ نے 26-2025 کے لیے پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کے لیے 15 منصوبوں کو حتمی شکل دی تھی۔ تاہم وزارت غذائی تحفظ نے ابتدائی طور پر ان میں سے 7 کو شارٹ لسٹ کیا، لیکن آخر کار ان سب کو چھوڑ دیا، جن کی لاگت کا تخمینہ 24 ارب روپے سے زیادہ تھا۔
انڈوومنٹ فنڈ کی تجویز
وزارت غذائی تحفظ نے زرعی تحقیق کے فروغ کے لیے 10 ارب روپے کی سیڈ منی کے ساتھ انڈوومنٹ فنڈ بنانے کی تجویز کو مسترد کیا۔ زراعت میں تحقیق و ترقی کو مالی وسائل کی کمی اور بے ترتیب فنڈنگ کی وجہ سے رکاوٹوں کا سامنا ہے۔








