امریکہ پر قرض کا حجم 37 ٹریلین ڈالر ہوگیا
امریکی قرضہ کی تشویشناک صورتحال
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی قرضہ اب 37 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، یہ بڑھتا ہوا قرضہ دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ آخر وہ حد کیا ہے جس تک باقی دنیا "انکل سیم" (یعنی امریکہ) کو قرض دیتی رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹی 20 میچ بارش سے متاثر ہونے کا خدشہ
شرحِ سود اور ڈالر کی قدر
بی بی سی کے مطابق یہ خدشات حالیہ دنوں میں ڈالر کی کمزور قدر اور امریکہ کو قرض دینے کے لیے سرمایہ کاروں کی جانب سے مانگی جانے والی زیادہ شرحِ سود میں بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ امریکہ کو یہ قرض اس لیے لینا پڑتا ہے تاکہ وہ ہر سال کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان فرق کو پورا کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے مقامی فون کی پیداوار میں اہم سنگ میل عبور کرلیا
ڈالر کی گرتی ہوئی قدر
سال کے آغاز سے اب تک ڈالر کی قدر پاؤنڈ کے مقابلے میں 10 فیصد اور یورو کے مقابلے میں 15 فیصد گر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی جی سپورٹس پنجاب خضرافضال کی لاہور یوتھ فیسٹیول 2024 اتھلیٹکس کے فائنل مقابلوں میں بطٍور مہمان خصوصی شرکت
ماہرین کی یکساں تشخیص
دنیا کے سب سے بڑے ہیج فنڈ کے بانی، رے ڈیلیو کا ماننا ہے کہ امریکہ کا قرض لینے کا رجحان ایک حد پر آ چکا ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق اگر یہی روش جاری رہی تو جلد ہی امریکہ ہر سال قرض اور اس پر سود کی مد میں 10 ٹریلین ڈالر خرچ کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، دہشت گرد گرفتار
37 ٹریلین ڈالر کا قرض: ایک ناقابلِ تصور رقم
37 ٹریلین ڈالر کا قرض ناقابلِ تصور رقم ہے۔ اگر آپ روزانہ ایک ملین (10 لاکھ) ڈالر بچائیں تو اتنی رقم جمع کرنے میں آپ کو ایک لاکھ سال لگیں گے۔
قرض اور معیشت کا تعلق
قرض کو سمجھنے کا معقول طریقہ یہ ہے کہ اسے کسی ملک کی آمدنی کے تناسب سے دیکھا جائے۔ امریکہ کی معیشت ہر سال تقریباً 25 ٹریلین ڈالر کی آمدنی پیدا کرتی ہے۔ اگرچہ امریکہ کا قرض آمدنی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے، مگر یہ جاپان یا اٹلی سے کم ہے، اور امریکہ کے پاس دنیا کی سب سے زیادہ دولت پیدا کرنے والی معیشت ہونے کا فائدہ بھی ہے۔








