استعفے کی کہانی کے کردار۔۔۔
مصنف کی تحریر
تحریر :رائے حسنین
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا؟
استعفیٰ کی قیاس آرائیاں
صدر آصف علی زرداری استعفیٰ دینے جا رہے ہیں یا ان سے استعفیٰ لے لیا جائے گا یہ خبر برادرم اعزاز سید نے بریک کی جبکہ انکے بعد بھی اس خبر کو کئی اینکرز اور سوشل میڈیا نے چبایا۔ خبر درست ہے یا غلط اسکا فیصلہ سردست کرنا مشکل ہے لیکن یہ طے ہے کہ اس کہانی کے کم از کم 3 کردار ہیں صدر مملکت، ملک ریاض اور اپنے "صاحب"۔
یہ بھی پڑھیں: سینئر اداکارہ نے حبا بخاری کو تھپڑ مارنے کی وجہ بتادی
قائمقام صدر کا کردار
آصف زرداری کے استعفے کی خبروں پر تبصرہ نگاروں نے زیرک مبصرین کی طرح اگر مگر کے ساتھ اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ اسکے بعد کیا ہو گا؟ کچھ کی نظر میں قائمقام صدر کے لئے نہ تو موجود آئین کے مطابق چیئرمین سینٹ کا نمبر آئے گا اور نہ ہی سپیکر قومی کو موقع ملے گا بلکہ آئین میں ترمیم کی جائے گی اور یہ ذمہ داری آئین ہی ڈال دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: دن کے وقت سیاحوں کی آمد و رفت، شام ہوتے ہی سناٹا، کھیت اور کھجوروں کے جھنڈ، فرعونی مجسمے
سیاسی اضطراب
اس خبر سے حکمران جماعت سے لیکر اتحادیوں تک سراسیمگی کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ خبر میں کس حد تک صداقت ہے؟ جبکہ خبر دینے والے کہتے ہیں کہ ہم نے ترمیمی قانون سازی کا مجوزہ مسودہ بھی دیکھا ہے۔ میرا تجربہ یہ کہتا ہے کہ ابھی اس خبر کو ٹیسٹر لگایا گیا ہے تاکہ عوامی ردعمل کو جانچا جا سکے اور اسکے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے۔ فی الحال یہ خبر سوائے ردعمل کو جانچنے کے کچھ اور نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں: نہری مسئلہ: صدر زرداری کی منظوری کا بولنے والے کیا وہاں سلیمانی ٹوپی پہن کر بیٹھے تھے؟ مراد علی شاہ
آصف علی زرداری کا ماضی
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور کیا آصف علی زرداری آسانی سے استعفیٰ دے دیں گے؟ صدر پاکستان اور ملک ریاض کے تعلقات کا کس کو علم نہیں؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری اور ملک ریاض کئی پراجیکٹس میں پارٹنر بھی ہیں۔ آصف علی زرداری جن کا مشکلات بھرا ماضی سب کے سامنے ہے، انہوں نے ہر مشکل کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے اور شائد ہی حالات کے سامنے سرنڈر کیا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا: صدر آزاد کشمیر
سیاسی تلاطم اور آئندہ کی توقعات
ایک اور پہلو جس پر سیاسی ذہن غور کر رہے ہیں کہ صدر کا استعفیٰ "بیلنس" کرنے کے لیے ہو اور قومی سیاست کے اگلے مرحلے میں مولانا فضل الرحمان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سیاسی تلاطم برپا کرنے جارہے ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: چوہدری طارق سبحانی عمرہ کی سعادت کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے
تصویر کا آئندہ رخ
تصویر کا کونسا رخ آئندہ کچھ عرصے میں ہم دیکھ سکیں گے اسکے لئے تو انتظار ہی کرنا گا۔
نوٹ
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








