برطانیہ؛ فلسطین ایکشن گروپ کے 20 سے زائد کارکن گرفتار
برطانیہ میں فلسطین ایکشن گروپ پر پابندی
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) برطانیہ کی حکومت نے فلسطین ایکشن گروپ پر پابندی عائد کرنے کے بعد احتجاج کرنے والے 20 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی محتسب انسداد ہراسیت نے خاتون بینک منیجر کو ہراساں کرنے کے کیس کا فیصلہ سنا دیا
پولیس کارروائی
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز نے غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ برطانوی پولیس نے 20 سے زائد افراد کو دہشت گردی کے شبہے میں گرفتار کیا ہے کیونکہ انہوں نے فلسطین ایکشن گروپ کی حمایت کی تھی، جب کہ اس گروپ پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت بڑھ کر 4لاکھ 81ہزار 862روپے ہو گئی
پابندی کی وجوہات
رپورٹ میں بتایا گیا کہ برطانوی حکومت نے گزشتہ ماہ رائل ایئرفورس بیس پر احتجاج اور توڑ پھوڑ کے بعد فلسطین ایکشن گروپ پر انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی کی کارروائی شروع کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ٹیکس 18 ماہ کی سٹیٹمنٹ پر لگے یا 12 ماہ پر؟ سپر ٹیکس سے متعلق کیس میں عدالت کا ایف بی آر حکام سے استفسار
پابندی کا پس منظر
برطانیہ نے اس سے قبل حماس سمیت 81 تنظیموں پر برطانیہ کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی لگا دی ہے، اور قانون کے مطابق کالعدم تنظیم کی حمایت اور اس تنظیم کا کوئی نشان اٹھانے پر 14 سال قید یا جرمانہ ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی طاقتوں کی مداخلت سے عمران خان کی رہائی کے پرانے بیانات، رضوان رضی کا طنز بھرا ٹوئیٹ
احتجاج اور ردعمل
حکومت کے اس اقدام کے بعد پارلیمنٹ سکوائر پر شہریوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوگئی، جن میں سے چند نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر درج تھا: "میں نسل کشی کی مخالفت کرتا ہوں، میں فلسطین ایکشن کی حمایت کرتا ہوں۔"
گرفتاریاں اور مزید معلومات
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسی دوران وہاں سے متعدد افراد کو ہتھکڑی لگا کر گرفتار کیا گیا جبکہ وہ گروپ کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے۔ خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے ماہرین بھی اسرائیل کو غزہ میں فلسطین میں نسل کشی کا مرتکب قرار دے چکے ہیں جہاں 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل نے جنگ مسلط کردی تھی اور یہ حالت اب تک جاری ہے۔








