معاہدہ ابراہیمی کا بنیادی مقصد مسلمان ممالک کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرانا ہے: نجم سیٹھی

ابراہم اکارڈ پر نئی بحث

لاہور (ویب ڈیسک) اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق چند سال پہلے تشکیل پانے والا’’ ابراہم اکارڈ ‘‘ ایک بار پھر زیر بحث ہے اور اب اس سلسلے میں سینئر صحافی نجم سیٹھی نے بھی روشنی ڈالی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے وزارتوں کی کارکردگی میں بہتری کے لیے اصلاحاتی عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کردی

نجی ٹی وی چینل میں گفتگو

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی کاکہناتھاکہ ’’معائدہ ابراہیمی کا بنیادی مقصد ہر اسلامی ملک کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے ، سفارتی تعلقات بنائے اور اس سلسلے میں پہلے چار ممالک کو تیار کیا تھا، اب سب کو تیار کرنا ہے، اور اس میں پاکستان کو بھی یہ کہہ دیا گیا ہے کہ دیکھیں اگر باقی مسلمان ممالک کو ہم منوالیتے ہیں تو آپ بھی تیار ہوجائیں، آپ کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اراکین قومی اسمبلی کو 3 سال میں کتنی رقم کے فری سفری واؤچرز جاری کیے گئے۔۔۔؟ انصار عباسی اہم تفصیلات سامنے لے آئے

حساس صورتحال کا تجزیہ

ان کا مزید کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ ہماری طرف سے یہ جواب دیا گیا ہوگا کہ جب وقت آئے گا، اگر باقی سب مسلمان ممالک تیار ہیں تو ہم تو بہت دور بیٹھے ہیں، اگر وہ لوگ جن کے وہاں مفادات ہیں، وہ تیار ہیں تو ہمیں کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیپال میں فوج نے کنٹرول سنبھال لیاہے اور جین زی کے نوجوانوں کے ساتھ حکومت کے قیام کیلئے مذاکرات جاری ہیں: نیپالی صحافی

اسرائیل اور بھارت کے تعلقات پر تشویش

سینئر تجزیہ نگار نے مزید کہا کہ دراصل ہمیں تو بہت تکلیف ہوتی ہے کہ اسرائیل نے انڈیا کے ساتھ اتنے اچھے تعلقات بنائے ہوئے ہیں کہ ٹیکنالوجی کا تبادلہ بھی ہورہاہے، مدد بھی ہورہی ہے۔ ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ تو کب سے کہہ رہی تھی کہ کسی طریقے سے یہ انڈیا اور اسرائیل کے تعلقات کمزور کیے جائیں، ورنہ ہمارا بہت نقصان ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: جب کوئی ’لوو بامبنگ‘ کرے تو سمجھ جائیں یہ محبت نہیں ہے: سائرہ یوسف

سعودی عرب کے فیصلوں کا اثر

یہاں بڑے لوگ ہوں گے جو یہ سوچتے ہوں گے کہ اگر سعودی عرب، اسرائیل کو تسلیم کرلیتا ہے تو ہم بھی ان کیساتھ مل کر کھڑے ہوجائیں گے، ایسی کیا بات ہے؟ اب ظاہر ہے اگر جن کے مسائل ہیں، وہ تسلیم کرلیتے ہیں تو ہمارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ اب تو یہ بھی سننے میں آرہاہے کہ مزاحمت کی تحریکوں کو بھی کسی نہ کسی سٹیج پر تیار کرلینا ہے کیونکہ بالآخر ان تنظیموں کو بھی عرب ممالک سے وسائل ملنے ہیں، خاص طورپر ایران سے۔

مسئلہ کشمیر اور فلسطین

اگر ایران مانے یا نہ مانے لیکن اگر باقی مسلمان ممالک مان لیتے ہیں تو آپ کس کھاتے میں کھڑے ہیں؟ آپ کا مسئلہ کشمیر ہے، فلسطین نہیں۔ بنیادی طورپر فلسطین مسلمانوں کا مسئلہ بھی نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ یہ کمٹمنٹ ہم کرآئے ہیں یا یہ اشارہ کرآئے ہیں کہ جب وقت آئے گا تو ہم دوسرے مسلمان ممالک کی لائن میں ہوں گے، آپ ان کو منا لیں، ہمارا ایشو نہیں۔

Categories: قومی

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...