معاہدہ ابراہیمی کا بنیادی مقصد مسلمان ممالک کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرانا ہے: نجم سیٹھی
ابراہم اکارڈ پر نئی بحث
لاہور (ویب ڈیسک) اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق چند سال پہلے تشکیل پانے والا’’ ابراہم اکارڈ ‘‘ ایک بار پھر زیر بحث ہے اور اب اس سلسلے میں سینئر صحافی نجم سیٹھی نے بھی روشنی ڈالی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی معیشت میں ہماری دفاعی صلاحیت کا بہت بڑا کردار ہوگا: وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف
نجی ٹی وی چینل میں گفتگو
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی کاکہناتھاکہ ’’معائدہ ابراہیمی کا بنیادی مقصد ہر اسلامی ملک کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے ، سفارتی تعلقات بنائے اور اس سلسلے میں پہلے چار ممالک کو تیار کیا تھا، اب سب کو تیار کرنا ہے، اور اس میں پاکستان کو بھی یہ کہہ دیا گیا ہے کہ دیکھیں اگر باقی مسلمان ممالک کو ہم منوالیتے ہیں تو آپ بھی تیار ہوجائیں، آپ کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کے 6 دن بعد شوہر نے بیوی کو قتل کر کے لاش جلا دی
حساس صورتحال کا تجزیہ
ان کا مزید کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ ہماری طرف سے یہ جواب دیا گیا ہوگا کہ جب وقت آئے گا، اگر باقی سب مسلمان ممالک تیار ہیں تو ہم تو بہت دور بیٹھے ہیں، اگر وہ لوگ جن کے وہاں مفادات ہیں، وہ تیار ہیں تو ہمیں کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوہلی کے ایک آئی پی ایل سیزن کی کمائی 10 ٹاپ پاکستانی کرکٹرز سے زائد نکلی
اسرائیل اور بھارت کے تعلقات پر تشویش
سینئر تجزیہ نگار نے مزید کہا کہ دراصل ہمیں تو بہت تکلیف ہوتی ہے کہ اسرائیل نے انڈیا کے ساتھ اتنے اچھے تعلقات بنائے ہوئے ہیں کہ ٹیکنالوجی کا تبادلہ بھی ہورہاہے، مدد بھی ہورہی ہے۔ ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ تو کب سے کہہ رہی تھی کہ کسی طریقے سے یہ انڈیا اور اسرائیل کے تعلقات کمزور کیے جائیں، ورنہ ہمارا بہت نقصان ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی کامیابی اور بقا کے لیے 27ویں ترمیم کی ضرورت پڑ گئی ہے، 28ویں ترمیم کی بھی ضرورت پڑی تو وہ بھی آجائے گی، فیصل واوڈا
سعودی عرب کے فیصلوں کا اثر
یہاں بڑے لوگ ہوں گے جو یہ سوچتے ہوں گے کہ اگر سعودی عرب، اسرائیل کو تسلیم کرلیتا ہے تو ہم بھی ان کیساتھ مل کر کھڑے ہوجائیں گے، ایسی کیا بات ہے؟ اب ظاہر ہے اگر جن کے مسائل ہیں، وہ تسلیم کرلیتے ہیں تو ہمارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ اب تو یہ بھی سننے میں آرہاہے کہ مزاحمت کی تحریکوں کو بھی کسی نہ کسی سٹیج پر تیار کرلینا ہے کیونکہ بالآخر ان تنظیموں کو بھی عرب ممالک سے وسائل ملنے ہیں، خاص طورپر ایران سے۔
مسئلہ کشمیر اور فلسطین
اگر ایران مانے یا نہ مانے لیکن اگر باقی مسلمان ممالک مان لیتے ہیں تو آپ کس کھاتے میں کھڑے ہیں؟ آپ کا مسئلہ کشمیر ہے، فلسطین نہیں۔ بنیادی طورپر فلسطین مسلمانوں کا مسئلہ بھی نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ یہ کمٹمنٹ ہم کرآئے ہیں یا یہ اشارہ کرآئے ہیں کہ جب وقت آئے گا تو ہم دوسرے مسلمان ممالک کی لائن میں ہوں گے، آپ ان کو منا لیں، ہمارا ایشو نہیں۔








