سندھ میں سرکاری ہسپتالوں کی جانب سے کم معیاد ادویات کی خریداری جاری
ادویات کی خریداری میں خلاف ورزیاں
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ میں ادویات کی خریداری اور کم معیاد والی دواؤں کی خریداری کے حوالے سے موجود قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری ہسپتالوں میں کم مدت معیاد والی دواؤں کی خریداری کا سلسلہ جاری ہے، کیونکہ کم معیاد والی دواؤں کی قیمتیں زیادہ معیاد والی ادویات کے مقابلے میں بہت سستی ملتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اگر پی ٹی آئی کو تحریک کامیاب بنانی ہے تو مزید کسی جماعت کی سپورٹ حاصل کرنا ہوگی: تجزیہ کار حسن عسکری
سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی خریداری کے مبینہ گھپلوں کا انکشاف
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی خریداری میں مبینہ گھپلوں کی اطلاعات ہر سال موصول ہوتی رہتی ہیں۔ اربوں روپے کی ادویات کی خریداری کا معاملہ ہمیشہ سے متنازع بنتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ بتا دیں فل کورٹ کا آرڈر کون کرے گا، فل کورٹ کون بنائے گا؟ جسٹس جمال مندوخیل کا وکیل اکرم شیخ سے استفسار
کم معیاد والی دواؤں کی خریداری کی وجوہات
ماہر علم الادویہ کا کہنا ہے کہ کم ایکسپائری والی دوا اور زیادہ ایکسپائری والی دوا کی قیمتوں میں واضح فرق ہوتا ہے، کم مدت معیاد والی ادویات عام طور پر سستی مل جاتی ہیں۔ اربوں روپے کی خریدی جانے والی ان ادویات کی خریداری نہایت منظم اور تکنیکی انداز سے کی جاتی ہے، جس کو ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طارق فضل چودھری کی عمران خان کو بنی گالا منتقلی کی پیشکش ایک بھونڈا مذاق ہے،مشال یوسفزئی
سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی خریداری کے نظام
سندھ کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی خریداری کے لیے سینٹرل پروکیومنٹ کمیٹی قائم ہے، جو سرکاری ہسپتالوں کی ڈیمانڈ کے مطابق 75 فیصد ادویات کی خریداری کرتی ہے اور قیمتوں کا تعین بھی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی ہٹ دھرمی ہے کہ وہ اتنا بڑا نقصان ماننے کو تیار نہیں” سی این این نے بھارت کو کھری کھری سنادیں
ٹینڈر کا عمل اور ادویات کی قیمتیں
ماہر علم الادویہ نے کہا کہ ان ادویات کی خریداری کے لیے ٹینڈر جاری کیے جاتے ہیں، جو سینٹرل پروکیومنٹ کمیٹی کے تحت ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ، قطر کا 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان
ادویات کی میعاد اور حفاظتی پالیسی
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی پالیسی کے مطابق جو ادویات اسپتالوں کو فراہم کی جاتی ہیں، ان کی کم از کم میعاد 6 ماہ یا بعض اوقات میں ایک سال کی ہونی چاہیے، لیکن سرکاری ہسپتالوں میں کوئی مؤثر مکینزم موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں گھر کے دروازے پر کھڑے شخص کو معمولی ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا
قوانین اور تبدیلی کی ضرورت
پاکستان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت ایکسپائرڈ دواؤں کے حوالے سے قوانین واضح ہیں۔
سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس
گذشتہ دنوں سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ادویات کی خریداری کے حوالے سے اجلاس منعقد کیا جس میں صحت کے محکمہ میں ادویات کی خریداری کے مکینزم پر سوالات اٹھائے گئے۔








