نظریہ نہیں نتیجہ ضروری، ہائبرڈ نظام ڈیلیور کر رہا ہے: عثمان مجیب شامی
تجزیہ کار عثمان مجیب شامی کا نقطہ نظر
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) تجزیہ کار عثمان مجیب شامی کا کہنا ہے کہ نظریہ ضروری نہیں بلکہ نتیجہ ضروری ہے، جس ہائبرڈ نظام کی باتیں ہو رہی ہیں وہ ڈیلیور کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: این اے 18: مخصوص عناصر ضمنی انتخابات کو متنازع بنا رہے ہیں، الیکشن کمیشن
ہائبرڈ نظام کی کارکردگی
پاکستان میں اگر کوئی نظام چل سکتا ہے تو ایسا ہی نظام چل سکتا ہے جس میں تھرڈ فورس کا چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود ہو۔ سیاستدانوں کا ٹریک ریکارڈ خراب ہے، اس لیے انہیں مکمل اختیار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد: نہروں میں نہانے کے دوران ہلاکتوں میں تشویشناک اضافہ
سیاستدانوں کے چیلنجز
عثمان مجیب شامی نے نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام "تھنک ٹینک" میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی ایک نظام سے بندھ نہیں جانا چاہیے کہ یہ کوئی بری چیز ہے۔ آج کل ہائبرڈ کی بات ہو رہی ہے لیکن موجودہ نظام سے میکرواکنامک لیول پر بہتری آئی ہے، علاقائی اور عالمی سفارتکاری میں کامیابیاں مل رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مدینہ طیبہ پہنچنے سے پہلے حاجیوں کو علم نہیں تھا کہ ان کی رہائش کس بلڈنگ میں ہو گی،میرا اپنا سامان مجھ اگلے روز کاوش کے بعد معاون حج کے تعاون سے ملا۔
فوج اور سیاسی قوتیں
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاستدانوں کی فوج کے ساتھ لڑائی اس وقت ہوتی ہے جب یہ مخالف سیاسی قوتوں کو جگہ دینے کو تیار نہیں ہوتے یا پھر وہ فوج کے اندرونی معاملات میں مداخلت چاہ رہے ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے مؤقف کی تائید بڑی سفارتی فتح، کشمیر کے مسئلے نے ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر اپنی موجودگی کو مضبوطی سے منوا لیا
سیاست اور جمہوریت
عثمان شامی کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں نے ہمیں بار بار بیوقوف بنایا۔ یہ جمہوریت کی بات تو کرتے ہیں لیکن خود جمہوریت کے قائل نہیں۔ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سبھی حکومت میں رہے لیکن کسی نے بلدیاتی نظام نہیں بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی نااہلی پر احتجاج: ملزمان پر فرد جرم کی کارروائی ایک بار پھر مؤخر
فوج کے کردار کی حدود
انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی لوگ چاہتے ہیں کہ فوج کا کردار محدود ہو تو باتوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ ترکیہ میں ہمارے جیسا ہی نظام تھا لیکن طیب اردوان نے 10 سال میں اپنی پرفارمنس سے لوگوں کو ڈیلیور کیا اور فوج کو اس کے کردار تک محدود کردیا۔
نتیجہ
عثمان شامی کے مطابق پاکستان میں کوئی نظام چل سکتا ہے تو ایسا ہی نظام چل سکتا ہے جس میں تھرڈ فورس کا چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود ہو، سیاستدانوں کا ٹریک ریکارڈ خراب ہے، اس لیے انہیں مکمل اختیار نہیں دیا جاسکتا۔








