بلوچستان: طوفانی بارشیں، آسمانی بجلی اور دیوارگرنے سے بچی سمیت 3 جاں بحق
کوئٹہ میں بارش کے باعث جانی نقصان
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان کے اضلاع واشک، لورالائی اور موسیٰ خیل میں موسلادھار بارشوں کے دوران آسمانی بجلی گرنے اور دیوار گرنے کے باعث ایک بچی اور دو نوجوان جاں بحق ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ داخلہ بلوچستان نے صوبے بھر میں ڈرونز، یو اے ویز، کواڈ کاپٹرز، کیم کاپٹرز اور دیگر ریموٹ کنٹرول فضائی آلات کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔
نقصانات کی معلومات
نجی ٹی وی جیونیوز نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حوالہ سے بتایا کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں حالیہ بارشوں، طوفانی ہواؤں اور آسمانی بجلی گرنے کے نتیجے میں کئی علاقوں میں نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیک نیوز شائع کرنے پر اخبار کو لیگل نوٹس جاری
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ
پی ڈی ایم اے حکام نے بتایا کہ آبی ریلوں کے باعث متعدد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلع واشک میں فلیش فلڈ کے نتیجے میں رہائشی مکانات، چار دیواریں اور زرعی زمینیں جزوی طور پر متاثر ہوئی ہیں، نقصانات کا حتمی تخمینہ لگانے کے لیے سروے کا عمل جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے 3 حلقوں کے ٹریبونل کی تبدیلی کا کیس: الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جواب جمع کرانے کا آخری موقع دیا
جاں بحق ہونے والوں کی تفصیلات
پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق، ضلع لورالائی میں تیز طوفانی بارش کے باعث دیوار گرنے سے ایک بچی علیزے جاں بحق ہوگئی، جبکہ ضلع موسیٰ خیل میں آسمانی بجلی گرنے کے نتیجے میں دو نوجوان عبدالحلیم اور جمال دین جاں بحق ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا چھت گرنے سے 8 خواتین کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار
متاثرہ علاقوں کی صورتحال
حکام کا کہنا ہے کہ ضلع لورالائی اور ضلع سوراب میں موسلادھار بارش کے ساتھ شدید طوفانی ہواؤں کے سبب متعدد گھروں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈیا کا دفاعی ادارہ جو خصوصی جوتے سے لے کر ہائپرسونک میزائل تک تیار کرتا ہے
آئندہ کی پیشن گوئی
دوسری جانب پی ڈی ایم اے نے آج رات اور کل ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد اور صحبت پور میں طوفانی بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کی تیاری
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہاں زیب خان نے بتایا کہ ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد اور صحبت پور میں آج رات اور کل طوفانی بارش کا امکان ہے۔ بارشوں سے پیدا ہونے والی ممکنہ ہنگامی صورتحال کے لئے پی ڈی ایم اے تیار ہے جبکہ متعلقہ محکموں کو بھی الرٹ کردیا گیا ہے۔








