سخت فیصلوں سے معاشی بحالی ہوئی، غلطیاں نہ دہرائی جائیں، گورنر سٹیٹ بینک
معاشی بحالی کی ضرورت
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے کہ حکومت اور سٹیٹ بینک کے سخت فیصلوں سے معاشی بحالی ہوئی۔ ماضی کے مسائل سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی بحرین کے وزیر خزانہ شیخ سلمان بن خلیفہ سے ملاقات، فنانس، بینکنگ اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کا فیصلہ
سٹیٹ بینک کی تقریب
سٹیٹ بینک کی جانب سے ویمن انٹرپرینیور فنانس کوڈ پاکستان کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ ماضی قریب میں ہماری معیشت کو کئی مسائل درپیش تھے، تاہم حکومت اور سٹیٹ بینک کے سخت فیصلوں سے معاشی بحالی ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر میں اسٹاف کی کمی کے سبب 37 سرکاری گرلز اسکول بند
افراطِ زر کی صورتحال
گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ مالی سال 2025 میں افراطِ زر 9 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ سخت مانیٹری اور فسکل پالیسی کی بدولت ہم نے معاشی تنزلی پر قابو پایا۔ بیرونی کھاتوں کی بہتر کارکردگی کے باعث زرمبادلہ مارکیٹ مستحکم ہے، ترسیلاتِ زر اور برآمدات کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش
زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ
جمیل احمد نے کہا کہ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 14 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ مالیاتی پالیسی نے زری پالیسی کو سپورٹ کیا جس کے سبب معاشی بہتری ہوئی۔ پاکستان میں پائیدار طریقے سے معاشی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں جبکہ نجی شعبے کے فروغ سے مسابقت اور کوالٹی میں بہتری آرہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کاروبار فنانس کیلئے 80ہزار قرض کی درخواستیں منظور
پائیدار معیشت کی تلاش
گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق پائیدار معیشت کے حصول کیلئے میکرواکنامک استحکام کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماضی کے مسائل سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں، ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پائیدار معیشت کی جانب گامزن ہونا ہوگا۔
خواتین کی مالی شمولیت
تقریب سے خطاب میں ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک سلیم اللّٰہ نے کہا کہ خواتین کی مالی شمولیت کم ہے۔ 52 فیصد خواتین کا بینک اکاؤنٹ نہیں، جبکہ بینکوں سے صرف 2 فیصد خواتین قرض لے رہی ہیں۔ ہم نے مالیاتی شمولیت کی حکمتِ عملی کے تحت عزم کیا ہے کہ 2028 تک خواتین کی مالی شمولیت 25 فیصد تک بڑھائیں گے۔








