سانحہ سوات، کمشنر مالا کنڈ ڈویژن نے انکوائری رپورٹ جمع کروا دی
سانحہ سوات کی انکوائری رپورٹ
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن نے سانحہ سوات سے متعلق انکوائری رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی صدر نے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی اجازت دے دی
کمشنر کی پیشی اور تفصیلات
نجی ٹی وی جیونیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کمشنر مالاکنڈ ڈویژن عابد وزیر نے انکوائری کمیٹی کے سامنے تحریری رپورٹ جمع کرائی۔ انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ہوٹل کے گارڈ نے سیاحوں کو دریا میں جانے سے روکا تھا، لیکن وہ ہوٹل کے پیچھے کی جانب چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں گرمی کا 16 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا
سیاحت کی بہتری کے لیے تجاویز
کمیٹی نے کمشنر سے سوال کیا کہ ایسے واقعات سے بچنے اور سیاحت کے فروغ کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں؟ کمشنر نے جواب دیا کہ سیاحت ایک علیحدہ شعبہ ہے، جس پر توجہ دینا تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کا کام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں سیاحت کا خیال اپر سوات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو رکھنا چاہیے، کیونکہ وہ سیاحتی مقامات کی بہتر نگہداشت کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلابی ریلے سے علی پور اور گردونواح کے کئی دیہات متاثر، بھاری نقصان، مریم اورنگزیب لاتی ماڑی اور سیت پور پہنچ گئیں
طغیانی کی پیشگی جانچ
کمیٹی نے پوچھا کہ دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کی پیشگی جانچ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ اس پر کمشنر نے بتایا کہ وہ ارلی وارننگ سسٹم کی تیاری میں مصروف ہیں، اور غلام اسحاق خان انسٹیٹوٹ اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ سے رابطہ کیا ہوا ہے۔ جی آئی اس جدید سسٹم کو دریاؤں اور ندی نالوں پر نصب کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ کی تذلیل کی جو مثال آج قائم کی گئی ہے، وہ جمہوریت کے چہرے پر بدنما داغ ہے، شہریار آفریدی
27 جون کے واقعے کی تفصیلات
انکوائری کمیٹی نے سوال کیا کہ 27 جون کو کیا ہوا تھا؟ کمشنر نے بتایا کہ زیادہ بارش کی وجہ سے دریائے سوات میں خوازہ خیلہ کے مقام پر پانی کی سطح 77 ہزار 782 کیوسک تک پہنچ گئی۔ ہوٹل کے گارڈ نے سیاحوں کو دریا میں جانے سے روکا، مگر وہ پھر بھی پیچھے کی طرف چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا علی امین گنڈاپور کے بشریٰ بی بی اور علیمہ خان سے متعلق بیانات پر ایکشن لینے کا فیصلہ
ریسکیو کی کارروائی
کمشنر مالاکنڈ نے مزید کہا کہ جب سیاحوں نے دریا میں داخل ہونے کے بعد پانی کی سطح بڑھنا شروع کیا تو صبح 9 بج کر 45 منٹ پر ریسکیو کو کال کی گئی، اور 20 منٹ بعد متعلقہ حکام موقع پر پہنچے۔ 17 پھنسے ہوئے سیاحوں میں سے 4 کو فوری طور پر ریسکیو کر لیا گیا۔
اب تک کی پیشرفت اور انتباہات
کمشنر کے مطابق، خراب موسم سے متعلق کئی انتباہات متعلقہ اداروں کو موصول ہوئے تھے، اور سیلاب کے خطرات کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا تھا۔







