سانحہ سوات، کمشنر مالا کنڈ ڈویژن نے انکوائری رپورٹ جمع کروا دی
سانحہ سوات کی انکوائری رپورٹ
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن نے سانحہ سوات سے متعلق انکوائری رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ نے جس طرح خیال رکھا، کوئی اپنا ہی خیال رکھ سکتا ہے: سیلاب متاثرین کا اظہار تشکر
کمشنر کی پیشی اور تفصیلات
نجی ٹی وی جیونیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کمشنر مالاکنڈ ڈویژن عابد وزیر نے انکوائری کمیٹی کے سامنے تحریری رپورٹ جمع کرائی۔ انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ہوٹل کے گارڈ نے سیاحوں کو دریا میں جانے سے روکا تھا، لیکن وہ ہوٹل کے پیچھے کی جانب چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر احتجاج کیس میں تین ملزمان پر فرد جرم عائد
سیاحت کی بہتری کے لیے تجاویز
کمیٹی نے کمشنر سے سوال کیا کہ ایسے واقعات سے بچنے اور سیاحت کے فروغ کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں؟ کمشنر نے جواب دیا کہ سیاحت ایک علیحدہ شعبہ ہے، جس پر توجہ دینا تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کا کام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں سیاحت کا خیال اپر سوات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو رکھنا چاہیے، کیونکہ وہ سیاحتی مقامات کی بہتر نگہداشت کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے نجم الحسن شانتو نے کپتان کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا
طغیانی کی پیشگی جانچ
کمیٹی نے پوچھا کہ دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کی پیشگی جانچ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ اس پر کمشنر نے بتایا کہ وہ ارلی وارننگ سسٹم کی تیاری میں مصروف ہیں، اور غلام اسحاق خان انسٹیٹوٹ اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ سے رابطہ کیا ہوا ہے۔ جی آئی اس جدید سسٹم کو دریاؤں اور ندی نالوں پر نصب کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے مخصوص نشستوں پر حلف برداری کیلئے گورنر کے پی کو نامزد کردیا۔
27 جون کے واقعے کی تفصیلات
انکوائری کمیٹی نے سوال کیا کہ 27 جون کو کیا ہوا تھا؟ کمشنر نے بتایا کہ زیادہ بارش کی وجہ سے دریائے سوات میں خوازہ خیلہ کے مقام پر پانی کی سطح 77 ہزار 782 کیوسک تک پہنچ گئی۔ ہوٹل کے گارڈ نے سیاحوں کو دریا میں جانے سے روکا، مگر وہ پھر بھی پیچھے کی طرف چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن کے ایکس پیغام پر علی محمد خان کا جواب، بھارت کے خلاف قوم متحد
ریسکیو کی کارروائی
کمشنر مالاکنڈ نے مزید کہا کہ جب سیاحوں نے دریا میں داخل ہونے کے بعد پانی کی سطح بڑھنا شروع کیا تو صبح 9 بج کر 45 منٹ پر ریسکیو کو کال کی گئی، اور 20 منٹ بعد متعلقہ حکام موقع پر پہنچے۔ 17 پھنسے ہوئے سیاحوں میں سے 4 کو فوری طور پر ریسکیو کر لیا گیا۔
اب تک کی پیشرفت اور انتباہات
کمشنر کے مطابق، خراب موسم سے متعلق کئی انتباہات متعلقہ اداروں کو موصول ہوئے تھے، اور سیلاب کے خطرات کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا تھا۔








