وفاق کی فاٹا کیلئے بنائی گئی کمیٹی کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف
فاٹا کیلئے کمیٹی کے خلاف پی ٹی آئی کا مطالبہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فاٹا کیلئے امیر مقام کی کنوینئر شپ میں بنائی گئی کمیٹی کو تحلیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کا قیام وفاق کی صوبے میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آج ملک بھر میں شبِ برأت نہایت عقیدت و احترام سے منائی جائے گی
پریس کانفرنس میں گفتگو
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے سابق گورنر کے پی شاہ فرمان، شیخ وقاص اکرم، اقبال آفریدی اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقے ہمیشہ حساس رہے ہیں۔ 25 ویں ترمیم کے بعد قبائلی علاقے صوبے میں ضم ہو چکے ہیں اور فاٹا کے لیے امیر مقام کو کنوینئر منتخب کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آرمی اور اماراتی صدارتی گارڈز کے درمیان تربیلا میں ’’مشق جلمود 1 ‘‘کا انعقاد
فاٹا کے نمائندوں کی عدم شرکت
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج دوسری میٹنگ تھی مگر فاٹا کے نمائندوں نے شرکت نہیں کی۔ سترہ میں سے چودہ ایم پی ایز پی ٹی آئی کے ہیں، لیکن ہمارا کوئی بھی نمائندہ کمیٹی میں نہیں گیا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 108 ملین ڈالر کی اضافی فنانسنگ کی منظوری دیدی
کمیٹی کے خاتمے کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی سیفرون کی کمیٹیاں ہیں مگر کسی بھی میٹنگ میں فاٹا کے لیے کبھی کچھ نہیں کیا گیا۔ ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ امیر مقام کی کنوینئر شپ میں جو کمیٹی بنائی گئی ہے، اسے تحلیل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ریاض: وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات
سابق گورنر خیبرپختونخوا کی رائے
سابق گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان نے کہا کہ فاٹا کو الگ کرتے وقت طے کیا گیا تھا کہ عوامی نمائندوں کے ذریعے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ فاٹا کے ایم این ایز پورے ملک کے لیے ووٹنگ کرسکتے تھے لیکن فاٹا کے لیے نہیں کرسکتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: نئے سپریم لیڈر کا انتخاب طاقت و وقار کے نئے دور کی شروعات ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان
کمیٹی کے خلاف مزاحمت کی یقین دہانی
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ مشاورت ایک بہانہ ہے اور فاٹا نشانہ ہے۔ ہم مزاحمت کریں گے اور فاٹا کو نہیں جانے دیں گے۔ جرگہ پہلے سے موجود ہے، اس کے علاوہ کون سا جرگہ بنانا ہے۔
فاٹا کے مالی حقوق
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ سات سو ارب سے زائد پیسے فاٹا کے ہیں اور اب تین سال رہ گئے ہیں۔ وفاقی حکومت فاٹا کی مقروض ہے اور فاٹا کے پیسے دینے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو نمبر کمیٹیاں بنیں گی اور فاٹا کے نمائندے انہیں قبول نہیں کریں گے۔








