کیا یقینی بنایا گیا ہے کہ تفتیش کوئی غلطی ملزم کو فائدہ نہ دے، سینیٹر ہمایوں مہمند کا ثنا یوسف قتل کیس میں بریفنگ پر استفسار
اجلاس کا آغاز
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کے اجلاس میں سوشل میڈیا انفلوانسر ثنا یوسف قتل کیس پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر ثمینہ زہری نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں 446 یوٹیلیٹی سٹورز بند
ملزم کی بروقت گرفتاری
سینیٹر ہمایوں مہمند نے بریفنگ کے دوران کہا کہ 24 گھنٹوں میں ملزم کی گرفتاری قابل ستائش ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دن دہاڑے قتل کرنے کے بعد ملزم کیسے بھاگ جاتا ہے؟ کیا اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ تفتیش میں کوئی غلطی ملزم کو فائدہ نہ دے؟
یہ بھی پڑھیں: سرآپ کو جس تکلیف ہورہی ہے شاید ان بے گناہوں کی آہ ہو سکتی ہے، تھانہ شادمان کیس میں دوران سماعت ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل کو دل کی تکلیف پر وکلا کی گفتگو
بریفنگ کی تفصیلات
ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس کو 2 جون کو اطلاع ملی کہ 17 سالہ بچی کو قتل کر دیا گیا۔ ملزم نے اسی روز فیصل آباد سے اسلام آباد آ کر فرار ہونے کی کوشش کی، جس کے سی سی ٹی وی میں ثنا یوسف کے گھر سے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عقلمندی سے کام لیتے ہوئے بلے بازوں کے ذہن کو پڑھنے کی کوشش کی، ورلڈ چیمپین بننے کے بعد جسپریت بمراہ کا بیان
گرفتاری کا عمل
ایس ایس پی عثمان طارق نے کہا کہ فیصل آباد میں 7 مقامات پر ریڈ کر کے ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ ملزم عمر حیات سے آلہ قتل اور ثنا یوسف کا موبائل فون بھی برآمد ہوا۔ 3 جون کو ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا، اور چالان تیار کرکے سکروٹنی کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
تحقیقات کی اہمیت
سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ دن دہاڑے ہونے والے قتل کے مقدمات میں غلطیاں رہ جاتی ہیں۔ انہوں نے ایس ایس پی عثمان طارق سے سوال کیا کہ کیا اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ تفتیش میں کوئی غلطی نہ ہو۔ ایس ایس پی نے جواب دیا کہ شواہد کو فوری طور پر محفوظ بنانا پہلا لازمی جز ہے۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گولیوں کے خول اور موبائل فون کو 24 گھنٹوں میں فارنزک کیلئے بھیجا گیا۔ ثنا یوسف کیس میں دو سپیشل پراسیکیوٹر بھی مقرر کئے گئے ہیں۔







