پنجاب پولیس کے افسران اور اہلکاروں کو دہری شہریت کے سرٹیفکیٹ جمع کروانے کی ہدایت
دہری شہریت کے سرٹیفکیٹ کی جمع کروانے کی ہدایت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) پنجاب کی ہدایت پر دہری شہریت رکھنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کو فوری طور پر دہری شہریت کے سرٹیفکیٹ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بہادر قبائل قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں میں افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، شاہد آفریدی
راولپنڈی میں ہدایت کا نفاذ
نجی ٹی وی چینل ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) راولپنڈی سید خالد حمدانی نے سیکیورٹی، سی آئی اے، انویسٹی گیشن، ایس ڈی پی اوز، ایس ایچ اوز، محرر پولیس لائنز، سیکیورٹی ڈویژن، ڈولفن فورس، ایلیٹ فورس اور دیگر تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ چاہے دوہری شہریت رکھتے ہوں یا نہیں، اپنا دوہری شہریت کا سرٹیفکیٹ بلا تاخیر پیر تک لازمی جمع کروائیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس کے متعدد اہلکاروں کا منشیات فروشی میں ملوث ہونے کا انکشاف، 12 اہلکار گرفتار
پچھلی ہدایات اور رپورٹنگ
اس سے قبل مئی میں، آئی جی پی ڈاکٹر عثمان انور نے دہری شہریت رکھنے والے پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) کے افسران اور پولیس اہلکاروں کی تفصیلات طلب کی تھیں۔
اس حوالے سے ایک پروفارما جاری کیا گیا ہے، جس میں ریجن اور یونٹ کا نام، دوہری شہریت والے ملک کا نام، دوہری شہریت حاصل کرنے کی تاریخ، اور وہ افسران جیسے کہ انسپکٹر اسٹیبلشمنٹ برانچ، انسپکٹر لیگل، انسپکٹر ٹیلی کمیونیکیشن، فنگر پرنٹ بیورو، اور سینئر ٹریفک وارڈن وغیرہ جو دہری شہریت رکھتے ہیں، کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین آبزرویشن مشن نے بنگلہ دیش میں عام انتخابات سے قبل کے ماحول پر اپنی رائے کا اظہار کر دیا
صوبائی ہدایتیں
آئی جی پی نے صوبے بھر کی پولیس، بشمول نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس اسلام آباد، نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کے کمانڈنٹ، جنوبی پنجاب، ملتان، انویسٹی گیشن برانچ، اسپیشل برانچ، سی ٹی ڈی، پی ایچ پی، آئی اے بی، ای پی ایف، آپریشنز، کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) اور ٹریننگ برانچ کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے افسران کی دوہری شہریت کی تفصیلات فراہم کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ساری قوم ایک اور نیک ہو کر وطن کے دفاع میں کھڑی ہے: شیخ رشید
ریاستی پولیس افسران کی ذمہ داری
تمام ریجنل پولیس افسران (آر پی اوز)، ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب، ڈی جی ایف آئی اے اسلام آباد، سی او او سیف سٹیز اتھارٹی، چیف ٹریفک آفیسرز لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان اور راولپنڈی، تمام پولیس ٹریننگ اسکولز پنجاب اور کمانڈنٹ رنگ روڈ پولیس لاہور کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈی ایس پی، اے ایس پی اور اس سے اوپر کے رینک کے افسران کی پوسٹنگ اور دوہری شہریت کی تفصیلات فراہم کریں، اور اگر دوہری شہریت ہے تو اس ملک کا نام بھی درج کریں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں اضافہ
پولیس افسران کی فیصدی اور رجحانات
ایک سینئر پولیس افسر نے انکشاف کیا کہ 30 سے 40 فیصد پولیس افسران و اہلکاروں کے اہلِ خانہ مختلف ممالک جیسے کہ کینیڈا، ترکی، برطانیہ اور مالٹا کی دوہری شہریت رکھتے ہیں، اور یہ رجحان پنجاب پولیس میں خیبرپختونخوا اور دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: محکمہ وائلڈ لائف اور لاہور پولیس نے مل کر میڈم CM کو “ماموں” بنادیا۔۔۔ لاہور میں شیر کا بچے پر حملہ
نمونہ کیس اور سوالات
ایک مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایک پولیس افسر طویل چھٹی لے کر بیرون ملک تعلیم کے لیے گیا، اور واپسی پر اس کے پاس دوہری شہریت تھی۔ ایک اور پولیس افسر نے کہا کہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ خود پولیس افسران و اہلکاروں کے پاس دوہری شہریت ہے یا نہیں، اور ان کے خاندانوں میں کتنے افراد دوہری شہریت رکھتے ہیں۔
ریٹائرمنٹ کے بعد کی صورتحال
جب پولیس افسران و اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو دہری شہریت مل جاتی ہے، تو ان کیلئے ریٹائرمنٹ کے بعد یا ملازمت چھوڑنے کی صورت میں دہری شہریت حاصل کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔








